240

عورت کے وقار پر ایک سچ تحریر۔رخسانہ سحر

“جہاں آپ کی عزت نہ ہو، وہاں نہ جایا کریں، بھلے سگے ہی رشتے کیوں نہ ہوں۔”
یہ جملہ آج کل کے سماجی تناؤ کا آئینہ ہے۔ ہماری تربیت میں رشتوں کو نبھانے کا درس شامل ہے، لیکن عزت کا سبق شامل نہیں۔ ہم رشتے بچاتے بچاتے خود کو کھو بیٹھے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ایک عورت، صرف اس لیے کیوں صبر کرتی ہے کہ سامنے والا “سگا” ہے؟ اور اگر وہ سگا ہو کر بھی زخم دے، تو پھر وہ زخم “رشتہ” کہلاتا ہے یا جرم؟
ادب کے شہنشاہ جون ایلیا نے لکھا تھا:
“میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں”

یہی عورت کا المیہ ہے۔ وہ سگی ماں کے طعنوں پر خاموش ہے، وہ سگے بھائی کی روک ٹوک پر صبر ہے، وہ سگے شوہر کے ہاتھوں عزتِ نفس کی موت مر رہی ہے — اور صرف اس لیے کہ معاشرہ اسے “گھر توڑنے والی، بدتمیز یا بدکردار” نہ کہہ دے۔

مگر اب وقت ہے کہ عورت رشتوں سے زیادہ اپنی عزت کو اہم جانے۔ کیونکہ رشتہ تب ہی معتبر ہوتا ہے جب اس میں عزت ہو، مساوات ہو، دل سے دل کا ربط ہو۔ اگر کوئی عورت کی سوچ، اس کی خودی، اس کی رائے یا اس کے وجود کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ رشتہ صرف ایک قید ہے، اور قید کا دروازہ توڑنا گناہ نہیں، بیداری ہے۔

بانو قدسیہ نے ایک جگہ لکھا:
“محبت وہ نہیں جس میں رشتے نبھائے جائیں، بلکہ وہ ہے جس میں انسان خود کو نہ کھوئے۔”
لیکن ہم نے محبت کے نام پر عورت کو ہی کھو دیا۔
ہم نے بیٹی سے ماں کے سامنے خاموشی کی توقع رکھی،
بیوی سے شوہر کے مظالم پر صبر کی تلقین کی،
اور بہن سے بھائی کے غصے کو تقدیر ماننے کو کہا۔
کیا یہی عزت ہے؟ یا یہ صرف سکھائے گئے ڈھونگ ہیں؟

عورت کو حق ہے کہ وہ اپنی حرمت کے لیے آواز بلند کرے چاہے وہ رشتہ ماں کا ہو، باپ کا، بھائی یا شریکِ حیات کا۔
اور مرد کو سیکھنا ہوگا کہ عورت کی خاموشی اس کی کمزوری نہیں، اس کی تہذیب ہے جو اب بغاوت میں ڈھل رہی ہے۔
رشتے تبھی تک خوبصورت ہیں جب تک وہ عزت دیتے ہیں۔
جہاں آپ کی وقعت نہ ہو، وہاں خود کو لے جانا اپنی توہین ہے۔
اور عورت اب یہ توہین مزید نہیں سہے گی۔
اخر میں میں دعا کروں گی کہ
> “خدا ہر عورت کو وہ حوصلہ دے کہ وہ عزت کے بغیر کسی رشتے میں نہ جئے — اور ہر مرد کو وہ شعور دے کہ وہ عزت کو عورت کا بنیادی حق سمجھے، رعایت نہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں