256

جِس نے ایجاد کیا روح کی سرشاری کو – تحریر: ڈاکٹر صغرا صدف

جِس نے ایجاد کیا روح کی سرشاری کو
ڈاکٹر صغرا صدف
کچھ کتابیں جادوئی تاثیر رکھتی ھیں٫ مطالعہ شروع کروں تو تب تک توجہ کو پلک جھپکنے نہیں دیتیں جب تک مکمل نہ کرلوں ۔ پھر کئی دن اُس کے سحر میں گرفتار رہتی ھوں۔اس وقت اردو کے منفرد اور بے مثل شاعر احمد مشتاق کی خوبصورت کتاب ،گردِ مہتاب، میرے ساتھ ھے ،جس کے شعری حُسن ، اچھوتے بیان ، تہذیبی وقار ،فکری گہرائی کی حامل سادگی ،رومانوی لب و لہجے اور ہجر و محبت سے گُندھے جمالیاتی احساس کی سرشاری نے تن من مالا مال کر رکھا ھے۔کلاسیکی روایت اور جدید حساسیت سے جُڑت رکھنے والے احمد مشتاق ایک ایسے خوبصورت شاعر ھیں جن پر کوئی چھاپ نہیں لگائی جاسکتی ۔ جن کا شعر اُن کے منفرد حوالے اور اچھوتے اسلوب کی گواہی ھے۔
شعر دیکھئے
خیر اوروں نے بھی چاہا تو ھے تُجھ سا ھونا
یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ھونا
دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی
جِس نے دیکھا ہی نہیں اُس سے خفا کیا ھونا
تُجھ سے دوری میں بھی خوش رھتا ھوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت بُرا لگتا ھے تنہا ھونا
یوں مری یاد میں محفوظ ھیں تیرے خدو خال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ھونا
زندگی معرکہء روح و بدن ھے مشتاق
عشق کے ساتھ ضروری ھے ہوس کا ھونا
زندگی کا بھرا میلہ چھوڑ کر جانے کا تصور ہر دل کو اداس کر دیتا ھے ۔احمد مشتاق نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور دل کے دلاسے کے لئے کائنات میں بکھرے فنا کے تمام رنگ جس خوبصورتی سے شعروں میں ڈھالے ھیں ملاحظہ کریں۔
جانا ہے جب سے دل کو ہے دھڑکا لگا ہوا
میں چھوڑ جاؤں گا یہ تماشا لگا ہوا
محفوظ دستبردِ زمانہ سے کچھ نہیں
ہر شے کی گھات میں ہے یہ چیتا لگا ہوا
افسردگئ حُسن سے اے دل نہ ہو ملول
ہر روشنی کے ساتھ ہے سایہ لگا ہوا
تنہائی تو کسی کو میسر نہیں یہاں
ہر راہ رو کے ساتھ ہے رستہ لگا ہوا
رومانی احساسات میں ڈھلی غزل جو کئی ملن رُتوں اور ہجر موسموں کے ذائقوں سے لبریز ھے .
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اِسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے دَر و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اُس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسین رہتا ہے
کسی من پسند کتاب کا مطالعہ روحانی سرخوشی کا باعث ھوتا ھے اور یہ سرخوشی پی ڈی ایف کی بدولت نصیب نہیں ھوتی ،اس لئے کتاب کی اھمیت ھمیشہ مسلم رھے گی۔
چند دن قبل عباس تابش صاحب کے بڑے بھائی کی وفات پر تعزیت کی غرض سے مجلس ترقی ادب جانا ھوا ، دعا کے بعد کتابوں کی بات چلی تو کُھلا کہ اس سال مجلس کے پلیٹ فارم سے بیس سے زائد کتب چھاپی گئی ھیں ۔جن میں ہر ایک ادبی ، ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حامل ھونے کے باعث خصوصی اہمیت رکھتی ھے ،یہ وہ کتابیں ھیں جو ھمیں معروف پبلشرز کے شوکیسوں میں نظر نہیں آتیں اور اگر نظر آ بھی جائیں تو درج قیمتیں خوفزدہ کر دیتی ھیں۔ مجلس کی شائع کردہ تمام کتب نصف قیمت پر دستیاب ھیں اور یہ قیمت صرف چھ سو سے ایک ھزار تک ھے، یہی وجہ ھے کہ مجلس کی کتابیں فروخت ھوتی ھیں اور سرکار کی رقم دوبارہ اکاؤنٹ میں جمع ھو کر اگلے منصوبوں کا حصہ بنتی ھے۔ میں نے گردِ مہتاب کے علاوہ کچھ اور کتابیں بھی یہیں سے خریدیں یقین کریں قیمت اتنی کم تھی کہ تحفہ ھی لگیں۔
سوشل میڈیا کے ہیجان میں مبتلا لوگوں کو کتاب کی طرف لا کر ملک و قوم کی تہذیبی، روحانی اور اخلاقی تربیت کرنے والے ادارے یقینا شاباش کے مستحق ھیں۔
آخر میں احمد مشتاق کے روح کی تاروں کو چھیڑتے وحدت الوجود کے احساس سے لبریز شعر دیکھئے
جس نے ایجاد کیا روح کی سرشاری کو
جِسم کی جلوہ نمائی بھی ہنر اُس کا ھے
راہ اُس کی ھے تھکن اُس کی ھے منزل اُس کی
ھم کرائے کے مسافر ھیں سفر اُس کا ھے
اپنا حصہ ھے فقط سایہء اشجار میں سیر
باغ اُسکا ھے گُل اُسکے ھیں ثمر اُس کا ھے
اجنبی لوگ ھیں اور ایک سے سے گھر ھیں سارے
کس سے پوچھیں کہ یہاں کون سا گھر اُس کا ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں