رہنما بکتے گئے، قافلے بکھرتے گئے
تحریر: رخسانہ سحر
جب راہنما ہی ہاتھ کھینچ لے تو قافلہ بھٹک جایا کرتا ہے۔
جب وہ لوگ جو چراغ جلانے والے تھے، خود اندھیروں سے سمجھوتا کر لیں،
تو منزل صرف خواب بن جاتی ہے — ایک ایسا خواب، جو آنکھوں کو جلا تو سکتا ہے، مگر راستہ نہیں دکھا سکتا۔
ہماری نسل نے جب آنکھ کھولی تو کتابوں میں استاد کو روحانی باپ لکھا پایا۔
ادب میں استاد شاگرد کے رشتے کو مقدس مانا گیا۔
مگر ہم نے دیکھا کہ زمانہ بدلا، قدریں گریں، اور استاد نیلام ہوتے گئے —
کبھی کسی انعام کے بدلے،
کبھی کسی نشست، کسی تقریری اسٹیج، یا رسالے کے اداریے کے لیے۔
وہ جو راستہ دکھانے والے تھے،
انہوں نے مفادات کے نام پر راستے بیچ ڈالے۔
نہ کوئی میر رہا، نہ غالب — بس کالم نگاروں کا ایک “ادبی مافیا” بن گیا
جو ہر نئے تخلیق کار کو یا تو خریدنے کی کوشش کرتا ہے،
یا مار دینے کی سازش۔
آج جب کوئی نوجوان ادیب، شاعر، یا افسانہ نگار کسی بزرگ قلم کار کے در پر پہنچتا ہے،
تو وہاں علم کی روشنی نہیں،
بلکہ انا، حسد، اور مفاد کی دیواریں نظر آتی ہیں۔
کوئی اسے مشورہ دینے کی بجائے نیچا دکھانے میں مصروف ہوتا ہے،
کوئی اسے اپنے طے شدہ سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے،
اور کوئی اس کے راستے میں وہی کانٹے بچھاتا ہے
جن پر چل کر وہ خود زخمی ہوا تھا —
لیکن افسوس کہ وہ چاہتا ہے اب کسی اور کے پاؤں زخمی ہوں۔
اس سسٹم میں وہ لوگ بچ گئے جو جھکنے اور بکنے کا فن جانتے تھے،
اور جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے،
ان کے حصے میں یا خاموشی آئی، یا گوشہ نشینی۔
ادبی تنظیمیں ہوں یا علمی ادارے،
اب ان میں سوچنے والے کم اور چاپلوسی کرنے والے زیادہ ہیں۔
ہر بڑے انعام کی پشت پر کوئی چھوٹا سودا چھپا ہوتا ہے۔
اور ہر نئی آواز کو دبانے کے لیے پرانی آوازیں مل کر سازش کرتی ہیں۔
نوجوان نسل کو اگر راستہ نہیں مل رہا،
تو اس کا ذمہ دار نظام سے زیادہ وہ استاد، وہ رہنما ہیں
جنہوں نے علم بیچ دیا، ضمیر گروی رکھ دیا، اور روشنائی کو سیاہی میں بدل دیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج قلم بےیقین ہے،
خیال بےوزن،
اور ادب بےروح۔
لیکن ابھی وقت مکمل ختم نہیں ہوا۔
اب بھی اگر چند استاد، چند بڑے نام
اپنی کرسیوں سے اٹھ کر
راستہ دکھانے کا ہنر واپس سیکھ لیں،
تو شاید کوئی نیا قافلہ —
کسی نئے راستے پر،
کسی نئی صبح کی طرف نکل سکے۔
فی الحال،
قافلے بکھر چکے ہیں،
رہنما بکتے جا رہے ہیں،
اور تخلیق کار —
اپنے سچ کے ساتھ تنہا کھڑے ہیں۔
جب راہنما ہی ہاتھ کھینچ لے، تو قافلہ بھٹک جاتا ہے۔
جب جنہیں منزلوں کا علم ہو، وہی مصلحتوں کا شکار ہو جائیں، تو مسافر کہاں جائیں؟
جب رول ماڈل، صرف تصویر بن کر رہ جائیں اور کردار کہیں گم ہو جائے،
تو راستہ طے کرنا نہیں، راستہ چننا ہی سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
ہم نے علم کی شمع تھامنے والوں کو دیکھا، مگر ان کے ہاتھوں میں تیزیاں تھیں،
ہم نے رہنماؤں کو دیکھا، مگر ان کی آنکھوں میں بصیرت کی بجائے مفاد کی دھند تھی۔
جب استاد بولی میں بکنے لگے، جب قلم ضمیر کا نہیں، پیسے کا تابع ہو جائے،
جب ادارے بند کمروں کی سیاست میں سچ کا گلا گھونٹ دیں،
تو ایسے ماحول میں نئے تخلیق کاروں کے لیے قلم اٹھانا،
خود کو کانٹوں پر گھسیٹنے جیسا ہے۔
وہ نوجوان جو لفظوں سے انقلاب لانا چاہتے تھے،
اب یا تو مایوسی میں گم ہو گئے ہیں،
یا مفاہمت کے کمرے میں خاموش بیٹھے ہیں۔
ابھی یہ سب جاری ہے۔۔۔
اور شاید مزید کچھ بگڑنے سے پہلے
کسی کو صدا دینا ہو گی۔
کسی کو یہ بتانا ہو گا کہ
استاد بکتے نہیں،
رہنما بھٹکاتے نہیں،
اور قلم جھکتا نہیں…