دولت، ظرف اور رشتے
تحریر : رخسانہ سحر
دولت… بظاہر یہ دنیا کا سب سے مطلوب خزانہ ہے۔ لوگ دن رات اس کے پیچھے دوڑتے ہیں، عزت، طاقت، رتبہ، ہر چیز اسی کے سائے میں تلاش کرتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ دولت خود کچھ نہیں ہوتی، یہ صرف انسان کے ظرف کا آئینہ بن جاتی ہے۔
جب دولت غیرت مند انسان کے ہاتھ آتی ہے، تو وہ اپنے پیاروں کا سہارا بن جاتا ہے۔ وہ والدین کے بوجھ بانٹتا ہے، بہن بھائیوں کی خوشیاں سنوارتا ہے، دوستوں کی مشکلیں آسان کرتا ہے، غیروں کے لیے بھی مخلصی کی مثال بن جاتا ہے۔ اس کی دولت صرف اس کی جیب میں نہیں، اس کے رویے میں، گفتار میں، اور سلوک میں جھلکتی ہے۔
مگر جب یہی دولت کم ظرف کے ہاتھ آتی ہے، تو وہ اپنی حیثیت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے۔ وہ جس دستر خوان پر پلا ہوتا ہے، اُسی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ جن ہاتھوں نے اسے دعا دی ہوتی ہے، وہ اُن ہاتھوں کو سلام سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ وہ دولت کو محبت، رشتے اور عزت پر فوقیت دیتا ہے—اور اس کا رویہ زہر بن کر اپنوں کے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔
ایسے لوگ دولت کو طاقت سمجھ بیٹھتے ہیں اور ظرف کو کمزوری۔ وہ ہر رشتہ تولنے لگتے ہیں، ناپنے لگتے ہیں، اور جب خود کو “کامیاب” سمجھتے ہیں، تو سب کو کمتر جاننے لگتے ہیں۔
ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، سوائے اس ظرف کے جو دولت کو نعمت بناتا ہے۔
ظرف کا تعلق نہ تعلیم سے ہے، نہ خاندانی شجرے سے۔ یہ ایک اندرونی تربیت ہے—جو ماں کی گود سے، باپ کے سائے سے، مشکل وقت کے بھروسے سے اور قربانیوں کی قدر سے پروان چڑھتی ہے۔
کئی لوگ کم آمدنی میں بھی اعلیٰ ظرفی کی مثال بن جاتے ہیں، اور کئی لوگ کروڑوں میں بھی کمینگی کی انتہا کو چھو لیتے ہیں۔
ظرف وہ دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے… اور حقیقی عزت وہی ہے جو دولت سے نہیں، کردار سے ملتی ہے
دولت اصل میں ایک آزمائش ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی نیت کا امتحان لیتی ہے، بلکہ رشتوں کی حقیقت بھی کھول کر رکھ دیتی ہے۔ اگر انسان اس آزمائش میں کامیاب ہو جائے، تو دولت اس کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ مغرور ہو جائے، تو یہی دولت اسے تنہا، بے حس، اور رشتوں سے کٹا ہوا بنا دیتی ہے۔
> ہم دولت کما رہے ہیں یا اپنی روح کو کھو رہے ہیں؟ ہم اپنوں کے لیے سہارا بن رہے ہیں یا اُن پر بوجھ؟
> دولت وہی اچھی ہے، جو انسان کو انسان رہنے دے۔
اگر دولت آ کر تمہیں رشتوں سے دور کر دے، تو سمجھ لو…
تم نے دولت نہیں کمائی، بلکہ تم نے خود کو بیچ دیا ہے