188

سیلاب ہر سال آتا ہے، شرم کبھی نہیں آتی- تحریر: رخسانہ سحر

گھر، گاؤں، بستیاں، زندگیاں سب کچھ پانی میں بہہ رہا ہے۔ انسانوں کی لاشیں، مویشیوں کی بے بسی، بچوں کی سسکیاں، اور عورتوں کی آنکھوں کا وہ خالی پن جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا — یہ سب کچھ بار بار دیکھنے کے باوجود ہم صرف تماشائی ہیں۔
ہر سال یہی ہوتا ہے۔ ہر سال لوگ مرتے ہیں، غریب برباد ہوتے ہیں، اور ہر سال حکومت “نوٹس لے رہی ہے”۔ مگر افسوس، انسانوں کی موت، جانوروں کی بے بسی، فصلوں کی تباہی اور بچوں کی بھوک ان سب پر اربابِ اختیار کی روح نہیں کانپتی۔
یہ جانور نہیں، غریب کا خاندان بہتا ہے
جب سیلاب آتا ہے تو صرف زمین نہیں ڈوبتی، ایک ایک جان بھی ڈوبتی ہے۔
بے زبان جانوروں کو پانی میں بہتے دیکھنا صرف ایک دردناک منظر نہیں، بلکہ اس معاشی، جذباتی اور نفسیاتی نقصان کی علامت ہے جس کا سامنا غریب کسان کو کرنا پڑتا ہے۔
یہ جانور اُس کی زندگی بھر کی کمائی، اُس کے گھر کا فرد، اُس کی روزگار کی آخری امید ہوتے ہیں۔
سیلاب اچانک نہیں آتا، غفلت مسلسل ہوتی ہے
بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا۔ سیلاب کی پیش گوئی، مون سون کی شدت، دریاؤں کے بہاؤ، برساتی نالوں کا پھیلاؤ — سب معلوم ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی نہ کوئی بند، نہ کوئی نکاسی کا نظام، نہ کوئی پیشگی اطلاع، نہ انخلا کا انتظام۔
کیا ہم ایک باشعور قوم ہیں یا صرف ایک عادتاً مرنے والا ہجوم؟
یہ قدرتی آفت ہے یا حکومتی مجرمانہ نااہلی؟
جب حکومت کو ہر سال یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مہینے میں بارش ہوگی، فلاں دریا میں پانی بڑھے گا، فلاں علاقے زیرِ آب آئیں گے تو پھر:
قبل از وقت صفائی کیوں نہیں ہوتی؟
حفاظتی بند کیوں نہیں بنتے؟
نالوں کی مرمت، پشتوں کی مضبوطی اور عوامی تربیت کیوں نہیں کی جاتی؟
کم از کم جانیں بچانے کے لیے کوئی ہنگامی لائحہ عمل کیوں نہیں ہوتا؟
حقیقت یہ ہے کہ حکمران صرف تصاویر، دورے اور خیرات کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔
سیلابی پانی پر امدادی پیکج کا ڈرامہ، میڈیا پر وقتی دکھاوا، اور پھر لمبی نیند۔
“یہ حکومت، یہ اربابِ اقتدار ان تمام لاشوں پر پوری دنیا سے خیرات جمع کرکے اپنے محل تعمیر کریں گے۔”
کیا یہی انسانیت ہے؟ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ایک واضح لائحہ عمل
اگر ہم اب بھی نہیں جاگے، تو ہر سال یہ کہانی دہرائی جائے گی شاید مزید بدتر صورت میں۔ ہمیں ذاتی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
ہر ممکن خطرہ سے قبل مکمل اطلاع، عوامی آگاہی، لاؤڈ اسپیکر اور SMS سسٹم۔
دیہاتی علاقوں میں تربیت یافتہ رضاکاروں کا نیٹ ورک۔
ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں پر تجاوزات کا خاتمہ۔
نکاسی آب کے مؤثر اور پائیدار نظام کی تنصیب۔
کمزور بندوں کی از سرِ نو تعمیر۔
دیہات میں سیلاب سے محفوظ مقامات پر شیلٹر ہاؤسز کی تعمیر۔
مالی امداد براہِ راست مستحقین کے اکاؤنٹ میں۔
جعلی سروے، کرپشن اور سیاسی وابستگی سے پاک شفاف سسٹم۔
“قومی آفات تحفظ پالیسی” کا نفاذ۔
ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی پلان۔
عوامی تربیت اور آگاہی مہمات۔
کمیونٹی لیول پر رضاکار گروپ اور ابتدائی طبی امداد کا انتظام۔
خدارا، اب بس کریں!
یہ وقت صرف تصویریں لینے اور “میں نے نوٹس لیا” کہنے کا نہیں۔ یہ وقت ہے:
انسانیت بچانے کا،
عزتیں محفوظ رکھنے کا،
نسلیں محفوظ کرنے کا۔
ہمیں حکومت سے بھی، خود سے بھی، اور اپنی آنے والی نسلوں سے بھی سوال کرنا ہوگا کہ:
> “کیا ہم نے انہیں زمین دی یا قبر؟”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں