269

بلھے شاہ کا انسان دوست فلسفہ – تحریر: ڈاکٹر صغرا صدف

بُلھے شاہ وہ صوفی شاعر ہے جس کا لکھا ہر لفظ اور مصرعہ ایک علامت ہے . اُس کے گیان میں موجود تاریخ ،فلسفے اور مذاہب کا تقابلی جائزہ اُسے آفاقیت کی علمبرداری پر اُکساتا ہے اُس فکر کا محور اور اور مرکز انسان ہے .وہ دنیا کے ہر انسان کی تکریم کا داعی ہےاس لئے ہر مذہب اور مکتبہ فکر کے لوگ اُس کی محبت میں گرفتار ہیں . اُس کی زبان سے ناآشنا گلوکار بھی اُس کا کلام گاتے اور روحانی لطف لیتے ہیں ، جو بھی اُسے گہرائی سے پڑھتا ہے اُس کی حیرت انگیز شاعری ، آفاقی سوچ اور منفرد فلسفے کا مداح بن جاتا ہے۔ اس کےدربار پر کسی خاص گروہ یا فرقے کا لیبل چسپاں نہیں . بلکہ یہ انسان سے محبت کرنے اور انسانی قدروں کا پرچار کرنے والوں کا ڈیرا ہے.عرس اور عام دنوں میں وہاں ہر فرقے اور عقیدے کا فرد اپنی عقیدت نچھاور کرتا ملے گا
وہ دنیا بھر کے وحدتِ انسانی فکر سےجُڑث رکھنے والے افراد کا مرشد ہے ٫ ایسا مرشد جس کی پوری زندگی منافقت،مصنوعی پن، مذہبی ریاکاری اور تعصبات کے خلاف جہاد کرتے گزاری،جس نے اپنا پورا سچ شعروں میں سمو کر لوگوں کو حق کی طرف راغب کیا ٫
بلھے شاہؒ کی فکر مذہبی، نسلی اور انسانوں کے درمیان تفریق کرنے والی ہر اجارہ داری سے ماوراہے۔ وہ شعور کی اس بلندو بالا منزل پر فائز ہیں جہاں کائنات کے وسیع صحن میں موجود مظاہر اپنی اصل پہچان کے ساتھ دکھائی دینے لگتے ہیں .انسان کی نظر کےسامنے مادے اور نفس کا تنا ہر جال یوں معدوم ہو جاتا ھے کہ ہر شے کی اصلیت نکھر کر سامنے آتی ہے. انسان محض رنگ، نسل، عقیدہ یا زبان کی بنیاد پر بٹے ہوئے وجود نہیں رہتے بلکہ ایک ہی سرچشمۂ حق کے مظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ بلھے شاہؒ کو اپنے شعور کےشفاف آئینے میں تمام انسان گندم کے دانوں کی مانند یکساں نظر آتے ہیں تو وہ کیہ جاناں میں کون کا حیرت بھرا راگ چھیڑ کر تاریخ میں خیر و شر کا کردار نبھانے والے افراد کا تذکرہ کر کے اپنے مقام کا تعین کرنے کی کوشش کرتا ہے. اپنی کھوج کے اس سفر میں ساتھ تفریق کرنے والے نام و نسب ، ظاہری حُلیے، ذات پات اور پہچان کے حامل تعارف بے معنی ہوتے جاتے ہیں. کائنات ایک کنبے کی شکل میں ظہور کرتی ہے جس میں ہر انسان انسانیت اور الوہی وحدت کے رشتے میں بندھا ہوا نظر آتا ہے۔ بُلھا تمام عمر اپنے ارد گرد بکھرے انسانوں کو اکٹھا کر کے تسبیح میں پرونے کی تگ و دو کرتا رہا ، اس کے لئے ہر قسم کے ظاہری اختلافات ، نفرتیں ، تعصب اور لڑائیاں بے معنی تھیں ، ہر طرح کے فکری اور مذہبی اختلافات کو مناظروں کی بجائے دل کی پاکیزہ رہنمائی سے حل کرنے کا مشورہ دیتا رہا، باہر کی الجھنوں کو باطن میں موجود حق کے نور سے سُلجھانے کی تلقین کرتا رہا .اُس کی فکر میں انسان کو مرکزیت حاصل ہے ، وہ مسجد و مندر کے انہدام کو برداشت کر سکتا ہے مگر مگر انسان کی توہین گوارا نہیں کرسکتا ،
بلھے شاہؒ کے فلسفے کی روشنی میں آج کی دنیا اور آج کے پاکستان کو دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلئے کہ آج بلھے شاہؒ کی فکر کے متصادم رستے پر رواں ہو کر ہم سب تقسیم کے ایک لامتناہی سلسلے سے گزر رہے ہیںہمارا کوئی نظریہ نہیں رہا۔ہم نے مفادات اور ضروریات کے پیروکار ہو کر حق و باطل کے معنی و مفہوم کا نقشہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔اقوامِ عالم کا بھی یہی حال ہے۔ زیادہ ڈِگریوں اور سائنسی ترقی کے بعد انسان کو زیادہ وسیع النظری کا حامل ہونا چاہئے تھا لیکن وہ دائرے میں سکڑتا جا رہا ہے، وہ اپنی پسند ناپسند تک محدودہو چکاہے۔اس کی سوچ کا قفس ایک ایسی تنگ کوٹھری ہے جس میں تازہ ہوا اور روشنی کے لئے کوئی روشن دان موجود نہیں،عجیب طرح کی ہوس نے پورے ماحول کو گھیر رکھا ہے۔ طلب رہ گئی چاہت رُخصت ہوگئی۔پاکستان پر اس وقت قیامت کا سماں ہے۔دنیا میں قیامتیں برپا ہوتی رہتی ہیں۔قدرتی آفات قیامت کے ٹریلر ہیں۔ پلک جھپکتے جن کے گھر بار اجڑ گئے،خاندان دوست احباب ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے ان کے لئے یہی قیامت ہے۔لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھنا گہرے کرب کا باعث ہے۔زندگی کو فنا کے سمندر میں غرق ہو کر بقا کی سمت بڑھنا ہے۔ہر فرد نے موت کو گلے لگانا ہے،مگر بے بسی اور لاچاری میں گھرے لوگوں کو خوف کے عالم میں گزرتے دیکھنا بہت بڑا المیہ ہے۔ہم لاکھ بے حِس ہو جائیں مگر ہماری روح ہمیں کچوکے دیتی رہتی ہے کیونکہ بلھے شاہؒ کی فکر کے مطابق ہماری روحوں کے دُکھ سکھ مشترک ہیں۔ہم اجتماعی مسرت اور اجتماعی رنج سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ہم تسلیم نہ بھی کریں مگر دوسروں کو دُکھ میں دیکھ کر ہمارے اندر غم کا دیپ جلنے لگتا ہیجو ہمارے وجود کو مضمحل کرتا رہتا ہے۔پاکستان نے کئی مشکل حالات جھیلے،ایک دنیا نے ڈبونے کی سعی کی مگر قدرت نے ہمت بندھائی۔لہروں سے ہاتھا پائی کرتے کنارے آ لگے۔حالیہ سیلابی طوفان میں ہماری کوتاہیاں بھی شامل ہیں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کبھی ہماری ترجیح نہیں رہی۔فطرت کے برعکس چلنے کی سزا کے بارے میں ہم نے سوچا ہی نہ تھا۔ توازن بگڑنے سے آنے والی قیامت کا ہمیں اندازہ ہی نہ تھا،ورنہ ہم موجود جنگلوں کو کاٹنے اور آگ لگانے کی بجائے مزید جنگل اُگاتے۔
آج کا سیلاب صرف اس سال کی بارشوں سے جڑی تباہی ساتھ لے کر نہیں آیا بلکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی کمزور معیشت والے ملک پر ناگہانی آفت بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔فصلیں، درخت اور مویشی سیلاب کی نظر ہو جانے سے آئندہ دنوں میں شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے،ہمیں اس وقت ان تمام عوامل پر بھی سوچنا ہے۔خدمتِ خلق سب سے بڑی عبادت ہے۔اس وقت ہر صاحبِ استطاعت کوسیلاب زدگان کے دکھ دور کرنے کی سعی کرنی چاہئے مگر سیاسی جماعتوں کا کردار زیادہ اہم ہے۔پانی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور طاقت ہے۔اس کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔لمحوں میں کئی منزلہ پختہ عمارات،پُلوں اور پلازوں کو نیست ونابود کر دیتا ہے۔سوچ بھی نہیں سکتے کہ کب زندگی کی ضمانت بننے والا موت کا روپ دھار لے۔ ہمیں اپنے ہم وطنوں کو دوبارہ قدموں پر کھڑا کرنے کے لئے دنیا کو آواز دینا ہو گی کہ شدید آفتوں سے نمٹنا کسی بھی صوبائی یا مرکزی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ ہم سب کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انسان کو بچانا ہے ، آئیے خدمت خلق کے جذبے کو بیدار کر کے ملک اور دنیا گلشن بنانے میں صلاحتیں استعمال کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں