171

“اللہ دیکھ رہا ہے” یا کیمرہ؟ ہمارے ضمیر کا سوال ……….. تحریر: رخسانہ سحر

مسجد کے ستون پر لکھا تھا: “اللہ دیکھ رہا ہے”
پھر بھی پنکھے، نل، جوتے، یہاں تک کہ عبادت کی جگہ سے چپلیں چوری ہوتی رہیں۔
یہ تحریر پاکستان کے معروف شاعر، ادیب اور فنکار عدیل برکی کی وال سے لی گئی، مگر یہ صرف ایک پوسٹ نہیں، ایک پوری قوم کی اجتماعی سوچ کا نوحہ ہے۔ کیونکہ جب دوسرا ستون آیا، جس پر لکھا تھا: “کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے” تو چوریاں بند ہوگئیں، مسجد میں سکون لوٹ آیا۔
کیا یہ بات صرف مسجدوں تک محدود ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں ضمیر سے زیادہ کیمرے کا خوف ہے۔ خُدا کو مانتے سب ہیں، مگر ڈرتے صرف CCTV سے ہیں۔ اللہ کا نام ہم احترام سے لیتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کی موجودگی کا یقین کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔
یہ تضاد ہماری تربیت کا آئینہ ہے۔ گھروں میں بچوں کو سچ بولنے کی تلقین دی جاتی ہے، لیکن ماں باپ خود جھوٹ بولتے پکڑے جاتے ہیں۔ اسکولوں میں اخلاقیات پڑھائی جاتی ہیں، مگر امتحانات میں نقل عام ہے۔ بازار میں “الحمدللہ مسلمان ہوں” کہنے والے ترازو میں کمی کرتے ہیں۔ اور مسجد میں چوریاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ “اللہ دیکھ رہا ہے” محض ایک نعرہ رہ گیا ہے، اثر اب کیمرے کی آنکھ میں ہے۔
تو کیا ہم کیمروں کے مسلمان ہو چکے ہیں؟ کیا ضمیر کی جگہ لینز نے لے لی ہے؟ اگر ہاں، تو یہ روحانی، اخلاقی اور سماجی زوال کی آخری سیڑھی ہے۔
یہ کالم دراصل ایک سوال ہے آپ سے، مجھ سے، ہم سب سے۔
کیا ہم صرف وہی کام چھوڑیں گے جسے کیمرہ دیکھ رہا ہے؟
یا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب ہم صرف اللہ کی رضا کے لیے، خالص نیت سے، بغیر کسی نگرانی کے اچھے اعمال کریں گے؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اللہ تو اب بھی دیکھ رہا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ ہم دیکھنے سے انکاری ہیں۔
اور حیرت انگیز طور پر…
چوریاں بند ہو گئیں۔
پنکھے محفوظ، نل محفوظ، جوتے محفوظ۔
مسجد میں سکون لوٹ آیا۔
یہ معمولی واقعہ نہیں، بلکہ ایک عکاسی ہے ہمارے اجتماعی ضمیر کی موت کی۔
یہ صرف مسجد کا المیہ نہیں…
یہ گھر، اسکول، دفاتر، عدالتیں، بازار ہر جگہ کا المیہ ہے۔
ہم اللہ سے محبت ضرور کرتے ہیں، مگر ڈرتے نہیں۔
ہم نماز پڑھتے ہیں، لیکن دل میں تقویٰ کی جگہ خالی ہے۔
ہم روزہ رکھتے ہیں، مگر زبان جھوٹ سے، دل حسد سے، اور ہاتھ دھوکے سے آلودہ رہتے ہیں۔
ہم حج کو “فرض کی ادائیگی” سمجھ کر کرتے ہیں، مگر واپسی پر رویے ویسے کے ویسے۔
اللہ دیکھ رہا ہے مگر اس جملے میں ہمارے لیے کوئی خوف نہیں رہا۔
جب تک “کیمرہ” نہ ہو، ہم سیدھے نہیں ہوتے۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے رب سے ڈرنا کیوں چھوڑ دیا؟
کیونکہ ہمارے ایمان میں یقین کی جگہ رسم و رواج نے لے لی ہے۔
ہمارے گھروں میں دین صرف “ظاہری” ہے، “باطنی” دین کہیں کھو گیا ہے۔
ہم نے اسلام کو عبادات تک محدود کر دیا ہے اخلاق، دیانت، سچائی، انصاف… سب صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔
جب ایک بچہ ماں کو فون پر جھوٹ بولتے دیکھتا ہے، جب باپ کو دفتر میں رشوت لیتے پکڑتا ہے، جب استاد نقل کرواتا ہے، جب مولوی سیاست میں فتوے بیچتا ہے تو وہ اللہ کی بجائے کیمرے سے ڈرنا سیکھتا ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ہم چوری کرتے ہیں
اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ کے دیکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ہم نے اس احساس کو کھو دیا ہے کہ
> “میں جہاں بھی ہوں، اللہ میرے ساتھ ہے”
“وہ ہر بات جانتا ہے، ہر نیت سے واقف ہے”
اب ہمارا دین صرف مراقبۂ کیمرہ بن چکا ہے، مراقبۂ خدا نہیں۔
تو کیا کیمرے ہی ہماری اصلاح کریں گے؟
اگر ہماری تربیت، ہمارے دینی ادارے، ہمارے میڈیا، اور ہمارے گھروں میں اخلاق اور خدا خوفی پیدا نہ کی گئی
تو پھر ہر مسجد، ہر دفتر، ہر چوراہے، ہر گھر، ہر بازار میں کیمرے لگانے پڑیں گے۔

مگر سوال یہ ہے
کیمرے ضمیر کے بغیر کب تک کام کریں گے؟
اگر نیّت خراب ہو، تو کیمرے بند کروا دیے جاتے ہیں۔
فٹجز غائب ہو جاتی ہیں۔
اور پھر اللہ؟
وہ تو ہمیشہ دیکھ رہا ہے۔
مگر ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
یہ کالم محض تنقید نہیں دعوتِ فکر ہے۔
کاش ہم دوبارہ وہ یقین پا سکیں، جو صحابہ کے دل میں تھا، جو بزرگوں کی آنکھوں میں جھلکتا تھا۔
کاش ہم اپنی تربیت کو کیمرہ سے اللہ کی طرف لوٹا سکیں۔
کیونکہ اگر اللہ کے دیکھنے کا یقین دل میں اتر جائے
تو نہ صرف مسجد، بلکہ سارا معاشرہ سکون سے بھر جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں