الیکشن،نگران حکومت اورآئین!
کنکریاں۔ کاشف مرزا
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کے اہم مشاورتی اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ آئین وقانون کے تحت 90دن کے اندر پنجاب میں الیکشن کیلئے تیارہیں، جبکہ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے وزیراعظم کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات 12اپریل کو کرانے کی تجویز پیش کردی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دونوں صوبوں میں اسمبلیاں تحلیل کر کے وفاقی حکومت پر دباؤبڑھانا چاہتے تھے کہ وہ قومی اسمبلی سمیت دیگر اسمبلیوں کو بھی تحلیل کرے اور ملک بھرایک وقت میں قبل ازوقت انتخابات کروائے۔ اگر مسلم لیگ ن کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت ایسا نہیں کرتی تو متبادل کے طورپر ان کے پاس کیا راستہ ہے؟آئینی طور پر اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی صوبے میں نگران حکومت کے قیام کے لیے کارروائی کا آغاز ہوگا جو پنجاب میں آئندہ انتخابات کروائے گی۔آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق گورنر وزیراعلیٰ کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 113 کے تحت 60 دن کے اندر نئے انتخابات کی تاریخ طے کرے گا اور الیکشن کمیشن پاکستان 90 روز کے اندر اس صوبے میں انتخابات کروانے کا پابند ہے۔پاکستان میں ماضی میں جب بھی ایسا ہوا کہ کوئی اسمبلی تحلیل ہوئی اور عدالتوں نے اس کو بحال کیا تو اس میں صورتحال مختلف تھی،تب یہ اسمبلیاں گورنر یا صدر کے کہنے پر تحلیل کی گئیں، جس پر عدالتوں نے انکے اس عمل کا جوڈیشل ریویو کیا اور تحلیل کی گئی اسمبلیوں کو بحال کر دیا گیا۔لیکن آئین میں ترامیم کے بعد صدر اور گورنر کے اختیار میں بہت کمی کر دی گئی جبکہ وزرائے اعلٰی اور وزیرِاعظم کے اختیار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔موجودہ صورتحال میں حال ہی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیرِاعلٰی پنجاب پرویز الٰہی نے اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوائی ہے۔اب ن لیگ اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے پاس کوئی جواز نہیں بچا جسکی بنیاد پر وہ عدالت میں اسمبلی کی تحلیل کی سمری کو چیلنج کرپائیں۔ وزیراعلٰی پرویز الٰہی نے مکمل طور پر آئینی طریقے سے سمری گورنر کو بھجوائی ہے اور کچھ بھی غیر آئینی نہیں کیا۔وزیرِاعلٰی نے حال ہی میں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل لے کے گورنر کے پاس کوئی ایسا جواز نہیں چھوڑاجسکی بنیاد پروہ وفاقی حکومت سے پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کر سکیں۔آئین میں 18ویں اور19ویں ترامیم کے بعد صدور و گورنرز کے پاس کسی سمری یا تجویز کو روک کر رکھنے یا پھر اسے وزیراعلٰی کو واپس ریویو کے لیے بھجوانے کے جو اختیارات تھے وہ سلب ہوچکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا عمران خان کی 7 حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم
آئین کے آرٹیکل 224 اے کی شق 2 سے 4 کے مطابق لیڈر آف دی ہاؤس اور اپوزیشن لیڈر کا 3 روز کے اندر کسی ایک نام پر اتفاق کرنا ضروری ہے، آئین میں یہ تحریر نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے سامنے کتنے نام زیر غور آنے چاہئیں تاہم مروجہ طریقہ کار کے تحت دونوں جانب سے 3 تین نام رکھے جاتے ہیں۔ الیکشن سے قبل قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے پاس باہمی افہام وتفہیم کے مطابق نگران سیٹ اپ کی نامزدگی کے لیے 7 دن ہونگے۔ ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں الیکشن کمیشن نگراں سیٹ اپ کو نامزد کرے گا۔اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد یہ اپنے قانون سازی کے اختیارات کھو دے گی اور اسکے ارکان آئین کے آرٹیکل 113کیمطابق عہدہ چھوڑ دیں گے۔الیکشن کمیشن صوبے میں نگران حکومت لا کر90روزمیں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروانے کا پابندہے۔موجودہ صورتحال میں حزبِ اختلاف نہ تو اسمبلی کی تحلیل کو روک سکتی ہے اور نہ ہی آئینی طور پر اس کو التوا میں ڈال سکتی ہے۔اب بات صرف پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ قومی سطح پرپورے ملک میں قبل ازوقت انتخابات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔آئین میں تمام اسمبلیوں و سینیٹ کی مدت واضح طور پر دی گئی ہے۔ یہ مدت اسمبلی انتخابات کے بعد اراکین کے حلف لینے سے شروع ہوتی ہے اور آئین میں یہ نہیں لکھا ہے کہ ملک میں تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت پر ہونا ضروری ہیں۔ اگر کوئی اسمبلی دیگر کے مقابلے پہلے مدت پوری کر لیتی ہے یا اسکو ختم کر دیا جاتا ہے تو الیکشن کمیشن صرف اسی ایک اسمبلی کے انتخابات کروا سکتا ہیں۔موجودہ صورتحال میں اگر قومی اسمبلی تحلیل نہیں کی جاتی تو 90دن کے اندر الیکشن کمیش پنجاب میں قبل ازوقت کروا دے گا۔اس کے باوجود وفاقی حکومت پرسخت دباؤ ہو گا اورآسان نہیں ہوگا کہ وہ باقی ملک کونظراندازکر کے صرف صوبہ پنجاب میں الیکشن کروائے۔عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے مطابق ای سی پی انتخابات کے انعقاد کی نگرانی کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 218 کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ ہوں جبکہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروع کریں گی۔معاشی وسیاسی صورتحال کے پیش نظرملک باربار انتخابات کرانے کامتحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے سارے الیکشن اکٹھے کروانے کیلیے یہ معاملہ عدالت کے ایوانوں میں جا سکتا ہے۔حکومت مردم شماری کے بعد الیکشن والے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے یا معاشی ایمرجنسی کی آڑ میں عدلیہ سے رجوع کر سکتی ہے۔ اب اس صورتحال پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی آنکھیں بند کرنا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت دباؤ اور ردعمل کی شکار ہے، پنجاب اور کے پی کی صوبائی حکومتوں کے تحلیل ہونے سے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھا لیکن مقتدر حلقوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ جنیوا کانفرنس اور دوست ممالک سے ملنے والی امداد کے بعد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیے بغیر اسے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے اوراس تسلسل کو ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسمبلیوں کی تحلیل کے خلاف عدالتی آپشنز پر مشاورت شروع کر رکھی ہے۔ ممکنہ طورپر معاملہ عدالت میں جانیاورکسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ٹیکنوکریٹ پر مبنی نگران سیٹ اپ طوالت اختیار کرسکتا ہے۔ غیر متوقع طور پر انتخابی فضا بن جانے کے اندیشے کے پیش نظر مسلم لیگ ن میں نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کیلئے دباو بڑھ رہا ہے۔اسمبلیوں کی تحلیل سے مسلم لیگ ن کوبہت نقصان ہوا ہے اوردوسری طرف عمران خان کواپنی صوبائی حکومتوں سے محروم ہوکربھی عوام میں انکی کامیابی کا تاثر پھیل رہا ہے۔حالیہ واقعات نے اس تاثر کو بھی دھندلا دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کو اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور ساتھ ہے۔