109

اندھیرے میں دیا – تحریر: میاں وقارالاسلام

اندھیرے میں دیا
تحریر: میاں وقارالاسلام

تَہ بَہ تَہ اس ملک نے اتنے اندھیرے دیکھتے ہیں کہ یقین مانیں اب دیا جلانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ یہاں ہر جرنل نے تاریخ پلٹی ہے مگر تاریخ نے سارے جرنلز پلٹ دیے ہیں۔ یہاں سیاست دانوں نے جو باغ دیکھائے تھے ان میں سے ایک بھی سرسبز نہیں ہوا تمام کے تمام سبز باغ ہی تھے۔ جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا، پھر جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا، اب یہ سچ بولتے ہیں تو بھی لوگ انہیں جوتے مارتے ہیں۔ باغیوں پر ظلم ہوا، پھر باغیوں پر ظلم ہوا ، پھر باغیوں پر ظلم ہوا پھر کیا ہوا اب ساری قوم کی باغی ہے۔ اور باغی تو ظلم کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا دشمن ہے، وہ ہمارا دشمن ہے، یہ ہمارا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے ، کیا قوم کو ابھی بھی نہیں معلوم کون ہمارا دشمن ہے۔ بہت سی صفریں ہیں جو مل کر ایک ہونا چاہتی ہیں، اور منافقت اتنی انتہا کی ہے کہ یہ ایک دوسرے کو صفر بھی کرنا چاہتے ہیں۔

صرف قوم کی حالت ہی پتلی نہیں ہوئی، یہاں کے آقاؤں کی حالت بھی قابل دید ہے، اپنے وقار کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں کوئی انہیں عزت دنے کو تیار نہیں۔ ملک کو تھوڑا تھوڑا بیچ کر کھانے والو، لوگوں کو تم سے گھن آتی ہے۔لوگوں میں بے چینی نہیں ہے لوگوں میں ایک خاص قسم کا تاعون پھیل چکا ہے۔یہاں باریاں لگا لگا کر جو معشیت کے ساتھ ریپ ہوتا رہا ہے یہ اسی خاص تاعون کی پھیلنے کی اکلوتی وجہ ہے۔آج یہاں کا ہر مرض لاعلاج نظر آتا ہے، لوگ ناامید ہوچکے ہیں کیوں، کیوں کہ امید دلانے والے ظالم تھے، اب ان پر لوگ بھروسہ ہی نہیں کرتے۔وہی مکروہ چہرے وہی بے ضمیر لوگ، وہی چور وہی ڈاکو وہی لٹیرے، وہی میرے ملک کی عزت کے ساتھ کھیلنے والے وہی ہمارا مقدر رہ گئے ہیں۔سر پھوڑنے والے ان کے ساتھ سر پھوڑیں ہم کیوں پھوڑیں، اور پھوٹی قسمت والے کیوں اپنا سر پھوڑیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ اس اندھیر نگری میں جس جس نے بھی جب جب دیا جلایا ہے اسے اُٹھا کر ظلم کی چکی میں پیس دیا گیا ہے۔ جب سارے دیے جلانے والے مار دو گے تو پھر رونا کس بات کا ہے کہ اندھیر نگری کی اندھیرا نہیں جاتا۔فیل ہونے والے جب فیل ہو کر آتے ہیں تو انہیں اپنا نتیجہ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ان کہ چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے کہ یہ فیل ہو چکے ہیں۔ اور یہاں جو بار بار فیل ہوچکے ہیں ان کی شکلیں بتاتی ہیں کہ یہ فیل ہو چکے ہیں۔جو کھوٹے سکے یہاں نہیں چلے ہم انہیں دنیا میں چلانا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ یہ کھوٹے سکے نہیں بلکہ سونے کے سکے ہیں تو پھر ایسے سکہ شناس کے کھوٹے ہونے پر کوئی شک رہ جاتا ہے۔

ہمیں شک ہو تو بھی کیا فرق پڑتا ہے اور اگر ہمیں یقین بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے، جو فرق ملک اور قوم کو اُٹھانے پڑے ہیں وہ بہت بھاری ہیں۔انقلاب آئے گا، انقلاب آئے گا، انقلاب کی باتیں وہ کر رہے ہیں جنہیں انقلاب بڑی مشکل سے باتھ روم تک ہی آتا ہے۔میں نہیں ہوں، میں صرف میں نہیں ہوں یہاں بہت سے لوگ ہیں جو آئینہ دیکھانا چاہتے ہیں۔ مگر جن کو یہ آئینہ دیکھانا چاہتے ہیں وہ اپنا بھیانک چہرہ ان کے آئینہ میں دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ آئینہ بھی توڑ دیتے ہیں اور آئینہ دیکھانے والے کے بھی دشمن ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر کون دیا جلانا چاہے گا، ہم بھی آخر تھک کر سو جائیں گے۔ مگر یہ تو افسوس نہیں ہوگا کہ ہم نے اپنے حصے کا دیا نہیں جلایا یہ اور بات کہ انہوں نے تیل بھی پی لیا اور دیے بھی توڑ دیے۔ بہت تھوڑے دیے بچ گئے ہیں، اتنے دیے ضرور روشن ہونے چاہیں کہ مجرموں کے چہرے اندھیر نگر میں کہیں چھپ نہ پائیں، جس رات میں مجرم چھپ جائیں اس رات کی صبح کبھی نہیں ہوتی۔

ہماری جنریشن نے شیر پال لیئے تھے تو ہمارے بچوں کی جنریشن بھی ان کے بلونگڑے کو پال لے گی
NOT A BIG GAME

جب معاشرے پتھر ہو جاتے ہیں تو ان پر شعر اثر نہیں کرتا، ان پر شیر بھی اثر نہیں کرتا، تیر دل پر بھی لگ جائے تو یہ کہتے ہیں بھٹو زندہ ہے۔طوفان آنے سے پہلے پرندے اپنے گھونسلوں کو چھوڑ دیتے ہیں ان گھونسلوں کو جسے انہوں نے تنکا تنکا جوڑ کر بنایا ہوتا ہے، کتنے دکھ اور کتنی تکلیف کی بات ہے کاش کوئی سمجھے۔ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے لوٹ گئے ہیں، ٹوٹ گئے ہیں، اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیئے اپنا سب کچھ بیچ کر پردیس میں جانے کے لیے تیار ہیں اور قیامت کیا ہوتی ہے۔

ہماری بدقسمتی صد افسوس کہ ہماری بدقسمتی دیار غیر میں اپنے گھر کے لیے پیسے کمانے والے اپنے ہی گھر میں سرمایہ کاری سے ڈر گئے ہیں۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہمیشہ اپنے ساتھ مخلص رہے اپنے کام کے ساتھ، اپنے ملک کے ساتھ مخلص رہے، آج روتے ہیں کہ اپنے ملک کے لیے کچھ نہ کر پائے، پھر روتے ہیں کہ ان کی محنتیں رائیگاں گئیں۔

ہم بہت محنتی اور اپنے وطن سے مخلص قوم ہیں اتنے مخلص کہ ہم نے اپنا ایک ادارہ بھی ٹھیک نہیں کیا اور جس ایک کو ٹھیک کیا وہی سب سے برا ہے۔ معصوم عوام کو اپنی معصومیت کی، بے وقوف عوام کو اپنی بے وقوفی کی اور شاطر لوگوں کو اپنی شاطرانہ چالوں کی قیمت ایک دن ضرور ادا کرنی پڑتی ہے۔ ہم لوگ بہت کثرت سے توبہ کیا کرتے تھے مگر ہم لوگوں نے کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے توبہ نہیں کی۔ اللہ تعالی نے ایسی بستیاں بھی تباہ کی ہیں جہاں کثرت سے ایمان والے تھے مگر وہ ظلم کے خلاف خاموش رہتے، پھر وقت نے انہیں ہمیشہ کے لیئے خاموش کر دیا۔

سیاست ایک طرف بھی رکھ دیں ملک کے ساتھ بہت ظلم ہوئے ہیں اور اسی کی قیمت ہم ادا کر رہے ہیں، قصور کسی کا بھی ہو۔ جن کی حکومتیں رہی ہیں تین تین بار ان پر الزام کیوں نہیں آئے گا، اور آرمی پر بھی الزام کیوں نہیں آئے گا۔ دن دھیاڑے چیٹا چور ثابت ہو کر لندن یاترا پر گئے ہیں، سابقہ پی ایم صاحب کو ہنڈلرز نے بڑے پیار سے سسرال میں رکھا ہوا ہے۔ پھر کہتے ہیں ہماری کوئی عزت کیوں نہیں کرتا۔ بھارت پاکستان سے تین گنا ترقی کر گیا مگر شیر ٹھیک ہے، بنگلہ دیش دو گنا زیادہ ترقی کر گیا مگر شیر ٹھیک ہے بیڑا ہی غرق ہو گیا مگر شیر ٹھیک ہے۔ تسی شیر نوں چھڈو اس دفعہ ببر شیر نوں ووٹ پاؤ، تاکہ جو کسر شیر نے چھوڑ دی ہے وہ ببر شیر پوری کر دے۔ کسی نے کہا کہ پاکستانیوں کو چاہیے جانور پالیں تاکہ گوشت سستا ہو، میں نے کہا اتنے سالوں سے ایک جانور ہی تو پال رہیں ہیں آپ کا پسندیدہ جانور شیر۔

پاکستان چوروں کی جنت ہے یہاں ہم دیا جلانے والوں کا کیا کام۔ ایک جتھہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو لوٹ رہا تھا عمران خان نے پتھر اٹھایا اور جتھے میں دے مارا، سب سے بڑا مجرم تو عمران خان ہے اس نے پنگا کیوں کیا ملک کی سنگین بیماریوں سے۔ لوگو! سمجھ آ رہی ہے ایک ٹولہ مہنگائی کم کرنے آیا چنگی طرح تباہی پھیر چکا ہے، ٹھپہ فیر شیر تے لانا تاکہ تہانوں کھا جائے۔

حکمران بھی شریف ہیں جو سب کچھ لوٹنے کے بعد بھی شرمندہ نہیں، ایک مطمیئن بے غیرت بھی شریف تھا، جو ہینڈلر بنا، عوام بھی شریف ہے کہ سب کچھ لٹنے کے بعد بھی پرسکون ہے، جانے یہ سوتی کیسے ہے۔ جب سب غلط ہی کرتے چلے جاو گے تو سب ٹھیک کیسے ہو سکتا ہے، سب ٹھیک کر رہے ہو تو ملک کا بیڑا غرق کیوں ہوا ہے۔ قوم کو ایسے جہالت کی نیند سلایا ہے جیسے بےہوشی کے انجیکشن ہی لگا دیے ہیں، اب اس کے ساتھ جو بھی کرتے جاو، اللہ پہلے بھی سب دیکھ رہا تھا اور پھر سزا دی، اللہ اب بھی سب دیکھ رہا ہے ظالمو! ڈرتے نہیں ہو۔

ملک لٹ نہیں رہا ملک بری طرح لٹ چکا ہے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے اسے بار بار لٹتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں اب تار تار ہوتے دیکھ رہے ہیں سارے مکروہ کردار بھی سامنے ہیں حکم ہے ان کی عزت کی جائے ۔۔ مائی فٹ

قوم دیکھتی ہی رہ جائے گی قوم کے ساتھ پھر ہاتھ ہو جانا ہے، اسٹیبلشمنٹ قوم کو جتنا بیوقوف سمجھتی ہے قوم اتنی بیوقوف ہے نہیں ۔۔۔۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ بیوقوف ہے تاریخ پڑھ لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں