115

اے سی سی اے کا گلوبل ایتھکس ڈے پر اخلاقی قیادت اور اعتماد کے فروغ کا عزم

اے سی سی اے (ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) نے گلوبل ایتھکس ڈے 2025 کے موقع پر اخلاقی قیادت اور دیانت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔

ایشیا پیسیفک خطے میں منعقد ہونے والے اس آن لائن ایونٹ میں اے سی سی اے کے ارکان، شراکت داروں اور بزنس لیڈرز کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھا کیا گیا، جہاں مالیاتی ماہرین کے کردار پر گفتگو کی گئی کہ کس طرح ٹیکنالوجی، پائیداری اور عالمی تغیرات کاروباری دنیا کو نئی شکل دے رہے ہیں اور بدلتی ہوئی سماجی توقعات کے دور میں اعتماد، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

سیشن کا آغاز اخلاقیات کی اہمیت اور اے سی سی اے کی دیرپا وابستگی سے ہوا۔ اپنے خطاب میں ڈائریکٹر ایشیا پیسیفک، اے سی سی اے پلکت ابروٖل نے کہا ” اخلاقیات کوئی تکنیکی مہارت نہیں بلکہ قیادت کی ایک بنیادی خوبی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ایک پیچیدہ دنیا میں اخلاقیات ہمارا رہنما اصول ہیں۔ یہ ہمیں آسان نہیں بلکہ درست فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اے سی سی اے کے لیے اخلاقیات ابتدا سے ہی ہمارے وجود کا حصہ رہی ہیں۔”

اس موقع پر“Upholding Integrity in a World of Digital Disruption”کے عنوان سے منعقد ہونے والی پینل ڈسکشن کی ماڈریٹر گل فشاں شیخ ایف سی سی اے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ہیڈ آف ٹریژری و کارپوریٹ فنانس، ایزی پیسہ بینک لمیٹڈ تھیں۔ پینل میں شامل دیگر ماہرین میں گروپ مینجنگ ڈائریکٹر، لنکا ہاسپٹلز کارپوریشن چامینڈا کماراسری،؛ وائس چیئر، انڈیپنڈنٹ آڈٹ ایڈوائزری کمیٹی، اقوام متحدہ سریش راج شرما،؛، ٹیکس اسٹریٹیجسٹ، ڈیلائیٹ جنوب مشرقی ایشیانگوین ترونگ نگن ایف سی سی اے؛ اور سینئر ڈائریکٹر کنسلٹنگ، ای وائے فورڈ روڈز شہزیب سانول ایف سی سی اے، شامل تھے۔

پینلسٹس نے گفتگو کی کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیٹا گورننس اور نئی ریگولیشنز کس طرح اخلاقی توقعات کو بدل رہی ہیں اور یہ کہ مالیاتی ماہرین کو اس تیز رفتار دور میں فیصلہ سازی اور جوابدہی کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقیات کسی عمل کے بعد نہیں بلکہ نظام، پالیسیوں اور قیادت کے ڈھانچے میں ضم ہونی چاہییں۔گفتگو کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹیکنالوجی اور دیانت داری ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ذمہ دارانہ جدت کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پینلسٹس نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنی تنظیموں میں واپس جا کر اخلاقی فیصلہ سازی اور اقدار پر مبنی قیادت کے عزم کو دوبارہ تازہ کریں۔

“Partner Perspectives: Collaboration for Ethical Progress”کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن میں مختلف اداروں کے رہنماؤں نے اخلاقیات اور جوابدہی کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا:
کنٹری منیجنگ پارٹنر، ای وائے فورڈ روڈزعاصم صدیقی نے کہا:”دیانت داری اور اخلاقی قیادت پائیدار کاروباری عمل کی بنیاد ہیں، جو ہمیں اعتماد قائم کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے طویل المدتی قدر پیدا کرنے میں رہنمائی کرتی ہیں۔”

صدر، انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پی)غلام مصطفیٰ قاضی نے کہا:”اخلاقیات تنہائی میں فروغ نہیں پا سکتیں۔ پیشہ ورانہ اداروں کے درمیان تعاون عالمی اکاؤنٹنگ کمیونٹی میں اخلاقی ثقافت کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ اے سی سی اے کے ساتھ ہماری نئی شراکت داری اسی وژن کی عکاس ہے، جس کا مقصد اخلاقی معیار کو مضبوط بنانا اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔”

چیف انٹرنل آڈیٹر، حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل)رؤف علی جان ایف سی سی اے نے کہا:”بینک کی اے سی سی اے کے ساتھ شراکت داری احتیاط، احترام اور اخلاقی اصولوں کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدار کو اجاگر کرتی ہے، جب کہ یہ عالمی سطح پر اخلاقی طرزِ عمل کو فروغ دینے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔”

ایف آر ایم، فنانشل ایڈوائزر، وی آئی ایس کریڈٹ ریٹنگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈصدف شبیر، سی ایف اے نے کہا:”اگرچہ گلوبل ایتھکس ڈے سال میں ایک بار منایا جاتا ہے، لیکن اخلاقی طرزِ عمل ایک روزمرہ عہد ہے کوئی ایک وقتی تقریب نہیں۔ مسلسل تربیت اور وسائل کے ذریعے ارکان اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اخلاقی فیصلہ سازی کی مہارتوں کو فروغ دیتے رہتے ہیں۔”

چیف انٹرنل آڈیٹر، اینگرو کارپوریشن سردار محمد علی عثمان نے کہا:”دیانت داری صرف ایک اصول نہیں بلکہ پائیدار ترقی کا خاکہ ہے۔ تیز رفتار تبدیلی کے اس دور میں یہ ترقی کو مقصد سے جوڑتی ہے۔ حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف منافع نہیں بلکہ ایمانداری، انصاف اور اعتماد ہے۔ جب دیانت داری ہمارے فیصلوں اور شراکت داریوں کی بنیاد بن جائے تو شفافیت ہماری طاقت اور اخلاقیات ہماری برتری بن جاتی ہیں۔”

صدر و سی ای او، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس (پی آئی سی جی)شفاق فوزیل عظیم نے کہا:”ورلڈ ایتھکس ڈے کے موقع پر پی آئی سی جی اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ بورڈز کا کردار دیانت، بصیرت اور جرات کے ساتھ قیادت کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ حکمرانی کا مستقبل صرف قواعد پر نہیں بلکہ ان اقدار پر منحصر ہے جنہیں ہم اپنانے کا انتخاب کرتے ہیں۔”

ہیڈ آف اے سی سی اے پاکستان، اسد حمید خان نے کہا:”سینئر مالیاتی ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جیسے جیسے روزمرہ کاموں میں ڈیجیٹل اوراے آئی کے آلات شامل ہو رہے ہیں، اداروں اور پیشہ وران کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسانی اقدار کو مضبوط کرے ناکہ ان کی جگہ لے۔”

ایونٹ کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ اخلاقیات پیشہ ورانہ اعتماد اور ذمہ دار قیادت کی بنیاد ہیں۔ شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں اخلاقی مہارت کو تکنیکی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ترقی دینا لازمی ہے، تاکہ مالیاتی ماہرین عوامی مفاد میں اپنی خدمات جاری رکھ سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں