235

جن پتھروں کو دھڑکنیں دیں، وہی زخم دینے لگے تحریر: رخسانہ سحر

جن پتھروں کو دھڑکنیں دیں، وہی زخم دینے لگے
تحریر: رخسانہ سحر
نیکیاں اکثر الٹا گلے پڑ جاتی ہیں… آزما کر دیکھ لو، سب سے زیادہ زہر وہی اگلے گا جس پر تم نے سب سے زیادہ احسان کیے ہوں گے۔
یہ صرف ایک تجربہ کار دل کی فریاد نہیں، بلکہ اس معاشرتی رویے کی عکاسی ہے جو صدیوں سے انسان کے خمیر میں کہیں دبی ہوئی ناقدری کی صورت پروان چڑھتی آ رہی ہے۔ ہم جنہیں سب کچھ سمجھ کر تھام لیتے ہیں، وہی ہاتھ چھڑانے میں سب سے زیادہ بےدرد نکلتے ہیں۔ جنہیں اپنے حصے کی روشنی سے زیادہ عطا کرتے ہیں، وہی سب سے پہلے ہماری روشنی بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ سب سے زیادہ وفاداری کا دم بھرنے والے، سب سے پہلے بےوفائی کا الزام داغتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ ہم ان کے حق سے زیادہ اُن پر مہربان ہوئے؟ یا اس لیے کہ ہم نے اُن کی کمزوریوں کو چھپایا، اُن کی تلخیوں کو برداشت کیا، اُن کے زخموں پر مرہم رکھا؟ شاید یہی ہماری سب سے بڑی غلطی تھی — کسی کو اس کی اوقات سے زیادہ عزت دینا۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر احسان کرنا گویا خود کو زخمی کرنا ہوتا ہے۔ وہ احسان کو محبت یا خلوص کی نظر سے نہیں، کسی بوجھ کی طرح دیکھتے ہیں، اور جب یہ بوجھ ناقابلِ برداشت لگنے لگتا ہے، تو وہ اس کا بدلہ چکانے کے لیے زبان کا زہر، کردار کی غلاظت اور رویوں کی سختی استعمال کرتے ہیں۔ نہ صرف تمہیں موردِ الزام ٹھہراتے ہیں بلکہ اپنے ہر ناکام لمحے کی ذمہ داری بھی تم پر ڈال دیتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک تعلیم یافتہ خاتون کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ وہ ایک تنہا ماں تھی، جس نے اپنے دیور کے بیٹے کو بیٹے کی طرح پالا۔ اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی، نوکری دلوانے کے لیے سفارشیں کروائیں، اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ اس کی فیس اور ضروریات میں لگا دیا۔ جب وہ نوجوان کامیاب ہو گیا، تو اس نے اسی عورت کو سوتیلے القابات دے کر طعنوں کا نشانہ بنایا، اور یہاں تک کہ اسے گھر سے نکلوانے کے لیے جھوٹے الزامات بھی تراشے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں، ایسی سینکڑوں ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کے دل کی پکار ہے، جنہوں نے دوسروں کے لیے زندگی روکی، مگر صلے میں صرف تلخی سمیٹی۔
یہ احسان فراموشی کچھ ایسی ہی ہے جیسے تم ایک قفس میں قید پرندے کو آزاد کرو، اور وہ آزاد ہو کر تمہاری ہی آنکھوں کو نوچ لے۔ تم نے اس کے پر چاکی کو مرہم دیا تھا، مگر وہ تمہیں زخم دے کر اُڑ گیا — یہ جانے بغیر کہ تم نے اسے آسمان سے آشنا کیا تھا۔
سوال یہ نہیں کہ نیکی کیوں کی، سوال یہ ہے کہ ہم نے نیکی کن لوگوں پر کی؟ کیا ہم نے کسی نادان کے کندھوں پر شعور کا بوجھ ڈال دیا؟ یا کسی خود غرض دل کے دروازے پر وفا کی صدا دی؟
احسان کرنے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہو گیا ہے کہ جس پر احسان کر رہے ہیں، کیا وہ انسان بھی ہے یا صرف ایک خود پرست سایہ، جو صرف لینے کا عادی ہے، دینا نہیں جانتا؟ کیونکہ اب زمانہ وہ ہے جہاں “نیکی کر، دریا میں ڈال” کی جگہ “نیکی کر، زہر پی” والا فلسفہ رائج ہو چکا ہے۔
> “جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھی دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں