متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ فاروق کا کہنا ہے کہ جوبھی فیصلہ ہوا بہتر ہے، میں اس پر مزید تبصرہ کرنا نہیں چاہتی۔
آج اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ فاروق ایک بیان کے ذریعے ردِ عمل کا اظہار کر رہی تھیں۔
شمائلہ فاروق کا کہنا ہے کہ 2 چیزیں بہت طاقتور ہیں ’صبر‘ اور ’وقت‘، مجھے شروع سے اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر یقین تھا۔
ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ نے مزید کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جو بھی فیصلہ ہوا بہتر ہے، میں اس پہ مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔
شمائلہ فاروق کا یہ بھی کہنا ہے کہ زندگی دکھ میں گزار رہی ہوں، اللّٰہ تعالیٰ دشمن کو بھی یہ وقت نہ دکھائے۔
واضح رہے کہ شمائلہ فاروق اپنے دو بیٹوں کے ساتھ لندن میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں، انہیں کینسر جیسی موذی بیماری بھی لاحق ہے۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے آج عمران فاروق قتل کیس کے تینوں گرفتار ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔عدالت نے سماعت مکمل کر کے کیس کا فیصلہ 21 مئی کو محفوظ کیا تھا، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت اسلام آباد کے جج جسٹس شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سنایا ہے۔
عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے بانیٔ ایم کیو ایم اور افتخار حسین کے علاوہ اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ تینوں کے خلاف استغاثہ کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔