حکومت سیلاب زدگان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے نرم قرضے حاصل کرنے اور پانی کم ہونے کے فوراً بعد ملک کے مختلف حصوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کی سرگرمیاں شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اداروں کو نقصانات، ضرورت کی تشخیص اور تباہی کے متعلقہ اثرات کے عمل میں زیر غور لایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر کام شروع کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کم از کم پانچ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
دریں اثناء ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی ڈونرز ایجنسیوں کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے جو امداد فراہم کی جا رہی ہے وہ حوصلہ افزا ہے لیکن تباہی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ لوگوں کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی اور بنیادی ڈھانچے کی مکمل بحالی نہیں کر سکتی۔ نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) نقصانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہا ہے۔
اس کے ڈپٹی چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے ورلڈ بینک(ڈبلیو پی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی پی) سے رابطہ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ سیلاب سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر قابو پانے کے لیے وقف کر دی گئی ہے۔ ریسکیو کی بڑی کوششوں نے سیلاب کے دوران حادثاتی اموات کو روکنے میں مدد کی۔ تقریباً 1500 افراد کا جانی نقصان کوئی کم تعداد نہیں، کوئی جانی نقصان نہیں ہونا چاہیے لیکن حکومت نے حادثاتی ہلاکتوں پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
حکومت نے برطانیہ کے ایک انسان دوست رکن پارلیمنٹ کے مطالبے کو سراہا جنہوں نے عالمی دارالحکومتوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے قرضے معاف کر دیں-
93