255

خاموشی کی جیت ۔ عزت بچانے کا فن ( تحریر: رخسانہ سحر )

دنیا میں لاکھوں زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن ایک زبان ایسی بھی ہے جو ہر زبان پر بھاری ہے وہ ہے خاموشی کی زبان۔ یہ زبان نہ شور کرتی ہے، نہ چیختی، نہ دلیل دیتی ہے، اور نہ تکرار میں پڑتی ہے، لیکن اس کا اثر دلوں پر ایسا ہوتا ہے کہ بڑی بڑی باتیں بھی چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں روزانہ کسی نہ کسی سطح پر اختلافات اور جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے لے کر گھریلو دسترخوان تک، ہر جگہ بحث کا بازار گرم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بحث کا حصہ بننا ضروری ہے؟ کیا ہر بدزبان شخص کو جواب دینا دانشمندی ہے؟

ایک مشہور ترک کہاوت ہے:

> “اگر آپ کی بحث کسی بدتمیز شخص سے ہو تو ہار مان لینا بہتر ہے، کیونکہ آپ کی آواز کتنی ہی جاندار کیوں نہ ہو، آپ ایک کتے سے بہتر بھونک نہیں سکتے۔”
یہ کہاوت بظاہر تلخ ہے، مگر اس کے اندر بصیرت کی ایک پوری دنیا چھپی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر آواز سننے کے لائق نہیں ہوتی، ہر سوال جواب کے قابل نہیں ہوتا، اور ہر جھگڑا جیتنے کے قابل نہیں ہوتا۔
بحث جب علم کے میدان میں ہو، تو وہ علم کو فروغ دیتی ہے۔ مگر جب بحث ضد، انا، جہالت اور بدتمیزی پر مبنی ہو، تو وہ انسان کے وقار کو کھا جاتی ہے۔ ایسے لوگ صرف جیتنے کے لیے لڑتے ہیں، سچ جاننے کے لیے نہیں۔ وہ شور سے دلیل کو دبانا چاہتے ہیں، چیخ سے سچائی کو روندنا چاہتے ہیں، اور گالی سے بات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ایسے میں اگر آپ خاموشی اختیار کر لیں تو لوگ کہیں گے:
“کمزور ہے، بات کا جواب نہیں دے سکا!”
لیکن حقیقت یہ ہے کہ خاموشی صرف وہی اختیار کرتا ہے جو جیتنے کے باوجود عزت بچانا جانتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ جب آپ کی گفتگو کسی بدزبان سے ہو، تو آپ بحث نہیں کر رہے، صرف خود کو نیچا دکھا رہے ہیں۔
ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ
“بدتمیز شخص کو جواب دینا، اپنے منہ کو گندا کرنے کے مترادف ہے۔”
اس لیے جو لوگ تہذیب سے جیتنا جانتے ہیں، وہ گالی سے الجھنے کا گناہ نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ الفاظ کا انتخاب انسان کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
“جاہل سے بحث نہ کرو، لوگ تم میں اور اُس میں تمیز نہ کر پائیں گے۔”
یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر لوگ نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ بدزبان کا جواب دے کر خود کو اس کی سطح پر گرا دیتے ہیں، اور پھر سچ، جھوٹ، تہذیب اور جہالت سب برابر ہو جاتے ہیں۔
کبھی کبھار خاموشی اختیار کرنا دراصل اپنے آپ کو بچانے کا سب سے بڑا ہنر ہوتا ہے۔ یہ خاموشی محض الفاظ کا رک جانا نہیں، بلکہ انا، عقل اور ضبط کا شعوری فیصلہ ہوتا ہے۔
یہ وہ ہتھیار ہے جو بغیر شور کیے فتح دلاتا ہے۔
خاموشی وہ معزز جوتی ہے جو کیچڑ میں اترنے سے انکار کر دیتی ہے۔
آخر میں بس اتنا کہوں گی:
کبھی کبھی جیتنے کے لیے ہارنا پڑتا ہے، اور عزت بچانے کے لیے خاموش ہونا پڑتا ہے۔ ہر آواز کے جواب میں آواز دینا دانائی نہیں، بعض اوقات “خاموشی” سب سے توانا دلیل بن جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں