291

خاموش مزاحمت زندگی کا کٹھن ترین سبق – تحریر: رُخسانہ سحر

“جس حال میں جینا مشکل ہے، اُس حال میں جینا لازم ہے” — یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں زندگی کی وہ تصویر نظر آتی ہے جو اکثر ہم چھپانا چاہتے ہیں۔ یہ جملہ اُن لمحوں کی ترجمانی کرتا ہے جب انسان اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے، لیکن باہر سے سلامت دکھائی دینا اُس کی مجبوری بن چکی ہوتی ہے۔ ایسا دکھ، جو نہ زبان پر آتا ہے، نہ آنکھ سے ٹپکتا ہے، بس اندر ہی اندر جیتا رہتا ہے — اور یہی زندگی کی وہ خاموش مزاحمت ہے جو سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں درد کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور آنسو کو شکست۔ یہاں انسان کو اپنی پریشانیوں کا چرچا کرنا بھی بزدلی گردانا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ فرد جو دن رات ٹوٹتے خوابوں، بکھرتی امیدوں اور ٹھنڈی پڑتی خواہشوں کے ساتھ بھی جیتا ہے — وہ دراصل سب سے بہادر ہوتا ہے۔ کیونکہ جینا وہاں اصل کارنامہ ہے جہاں مر جانا آسان لگے۔
یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے نباہنا۔ بغیر شکایت کے، بغیر آواز اٹھائے۔ جینا اُس وقت جب جینا کسی سزا سے کم محسوس نہ ہو۔ اور یہ سزا اکثر وہی لوگ کاٹتے ہیں جو سب کے لیے آسانیاں بانٹتے ہیں، جو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں سجاتے ہیں، مگر خود آئینے سے نظریں چراتے ہیں۔
نفسیاتی طور پر، مسلسل دباؤ، غم اور اندرونی تنہائی انسان کو خاموش کر دیتی ہے۔ یہ خاموشی شور سے کہیں زیادہ بولتی ہے، مگر افسوس کہ معاشرہ صرف شور سنتا ہے، خاموشیوں کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی تکلیفیں اندر چھپا کر جیتے ہیں، صرف اس لیے کہ اُن کی “زندگی” دوسروں کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسے لوگ کمزور ہوتے ہیں؟ نہیں! دراصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کی وہ بلندیاں چھو لی ہوتی ہیں جہاں فریاد بھی خاموش ہو جاتی ہے۔ ان کا جینا ایک “بیان” ہوتا ہے — کہ انسان سب کچھ ہار کر بھی زندہ رہ سکتا ہے، اور یہی ہار دراصل زندگی کی سب سے بڑی فتح بن جاتی ہے۔
کاش ہمارا معاشرہ ان خاموش جینے والوں کو کمزور کہنے کی بجائے ان کی عظمت کو سلام کرنا سیکھ جائے۔ کاش ہم سیکھ سکیں کہ ہر زندہ شخص زندہ دل نہیں ہوتا، اور ہر ہنستی آنکھ کے پیچھے کوئی نہ کوئی طوفان ضرور چھپا ہوتا ہے۔

یہ کالم اُن سب کے نام ہے جو “جس حال میں جینا مشکل ہے، اُس حال میں جینا لازم ہے” کے تقاضوں پر چپ چاپ پورے اترتے ہیں بغیر کسی صلے کے، بغیر کسی داد کے۔ہمارے معاشرے میں دکھ چھپانا تربیت سمجھا جاتا ہے، اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کو کمزوری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ لوگ جو اندر ہی اندر خود کو سمیٹتے رہتے ہیں، جو ٹوٹی خواہشوں، بکھرے خوابوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ دن گزار دیتے ہیں — دراصل وہی اصل سورما ہوتے ہیں۔ ان کا جینا، ان کی خاموشی، اُن کی مزاحمت ایک ایسی کہانی بن جاتی ہے جو لکھی نہیں جاتی، صرف محسوس کی جاتی ہے۔

ایسے لوگ معاشرے کے آئینے ہوتے ہیں جن میں دکھ، صبر، برداشت اور خاموشی کا عکس نظر آتا ہے۔ وہ آواز نہیں اٹھاتے، لیکن ان کی خاموشی چیخ بن کر سنجیدہ سماج پر سوال اٹھاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ لوگ کیوں زندہ ہیں؟ کس ہمت سے؟ کس امید پر؟ شاید کوئی امید نہیں، بس ایک ذمہ داری ہے، کہ جینا لازم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں