103

ذخیرہ اندوز مافیا اور ٹماٹر،پیاز کی درآمد-تحریر میاں عصمت رمضان

ذخیرہ اندوز مافیا اور ٹماٹر،پیاز کی درآمد

پاکستان کی عوام ان دنوں سیلاب کے بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث ملک میں روزمرہ کی مختلف اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ان کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ جاری ہے۔ ان میں پیاز، ٹماٹر اور کئی دیگر سبزیاں اور پھل شامل ہیں ۔ حالیہ بارشوں کے باعث ملک میں زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، آلو ، پیاز اور ٹماٹر کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹماٹر کی قیمت 500 روپے جب کہ پیاز 300 روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے۔
ذخیرہ اندوز مافیا بھی سرگرم ہوچکا ہے جو مہنگائی میں بلا جواز اضافے کا ایک اہم سبب ہےاگرچہ یہ مافیا ہر دور میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اشیاء خورد نوش کی قیمتوں کو اسمان تک لے جانے میں لیکن اس وقت جب وطن پاکستان میں اشیاء خورد نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور تمام سبزیوں کے ریٹ اسمان کو چھو رہیں ہیں اور انتظامیہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھیں بیٹھی ہیں -حکومت نے اگرچہ اب پیاز اور ٹماٹر کی قلت کم کرنے کے لیے ہمسایہ ملک افغانستان اور دیگر قریبی ممالک سے درامد شروع کر دی ہے جس کی بدولت مملک میں کافی حد تک ریٹس میں کمی انا شروع ہو چکی ہے- سبزیوں کی قلت کی وجہ سے یہ امر بھی زیر غور رہا کہ کیا بھارت سے اشیائے ضروریہ کی درآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔ حکومتی حلقوں کی رائے اس پر منقسم ہے جب کہ عارضی طور پر بھارت سے تجارتی تعلقات بحال ہوجائیں تو اشیائے ضروریہ نقل و حمل پر آنے والی لاگت کے کم ہونے کی وجہ سے نسبتاً کم قیمت پر صارفین کو فراہم کی جاسکتی ہیں لیکن ہم یہ فیصلہ کر بھی لیں تب بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ بھارت اسے منظور کرتا ہے کہ نہیں نیز اس کی عائد کردہ شرائط ہمارے لیے قابل قبول ہوں گی یا نہیں۔ تاہم وفاقی حکومت نے ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی اجازت دے کر مسئلہ حل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جس کے بعد سبزیوں سے لدے 50ٹرک تفتان اور چمن کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں پیاز اورٹماٹر کی مزید کھیپ پہنچ جائے گی۔ ایران سے آنے والے ٹرکوں کو کسٹم حکام نے ضروری کارروائی کے بعد فوری طور پر کوئٹہ روانہ کر دیا ہے ۔ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ بھی صائب ہے کہ ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر کوئی کسٹم ڈیوٹی وصول نہ کی جائے۔ وفاقی کابینہ نے سیلاب کے باعث پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دے دی۔کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے ٹماٹراور پیاز کی درآمد کی اجازت دی جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کابینہ نے موجودہ ہنگامی صورتحال میں ان اشیا کی درآمد پر ٹیکس استثنیٰ دیا ہے۔کسٹم ڈیوٹی اور تمام ٹیکسز ختم ہونے کے بعد طورخم بارڈر پر 24گھنٹوں میں دو سو سے زیادہ پیاز اور 90ٹماٹر کی گاڑیوں کی کلئیرنس کی گئی ہے ۔کسٹم حکام کے مطابق پیاز کا کل وزن چار ہزار نو سو ٹن اور ٹماٹر کا وزن ایک ہزار 800ٹن بنتا ہے ۔طورخم بارڈر پر پیاز ،ٹماٹر، سبزیوں اور پھلوں سے لدی گاڑیوں کی کلئیرنس گزشتہ تین دنوں سے تیز کر دی گئی ہے جس کے لئے کسٹم عملہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور تقریباً ہزار کی تعداد میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کی گاڑیوں کو کلئیر کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں تازہ سبزیوں سے لوڈ گاڑیاں پشاور سمیت مختلف شہروں کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔
پاکستان کے چاروں صوبے ہی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان حالات میں اشیائے ضروریہ کی قلت کے باعث مناسب ہوگا کہ اگر توازن ادائیگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ممکن ہو تو مزید اشیا کو بھی ٹیکس چھوٹ کے ساتھ درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وطنِ عزیز میں مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں