87

رضوانہ تشدد کیس، عدالتی حکم پر جج کی اہلیہ گرفتار

رضوانہ تشدد کیس میں عدالتی حکم پر جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شہزادہ بخاری نے اہلکاروں کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو فوری طور پر گرفتار کریں، کہیں جانے کی اجازت نہیں۔

کمرۂ عدالت سے باہر آنے پر ملزمہ سومیہ عاصم کو گرفتار کیا گیا، پولیس گاڑی میں بٹھا کر ملزمہ کو لے کر روانہ ہو گئی۔

رضوانہ تشدد کیس میں سومیہ عاصم کو گرفتار کرنے کا حکم
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج فرخ فرید نے رضوانہ تشدد کیس میں سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے ان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کمسن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں سول جج کی اہلیہ ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت ہوئی۔

ڈیوٹی ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے سماعت کی۔

ملزمہ سومیہ عاصم اور متاثرہ بچی کے والدین اپنے وکلاء کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

جج فرخ فرید نے پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ تلاش کرنے میں ڈرنہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں، پریشر نہ لیں، تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے۔

جج فرخ فرید نے بار بار ملزمہ سومیہ عاصم کو کمرۂ عدالت چھوڑنے کی ہدایت کی۔

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو کمرۂ عدالت سے باہر لے جائیں، میرے لیے بھی مشکل ہے، میرے کولیگ کی اہلیہ ہیں، جہاں انصاف کی بات ہو گی تو میں نے انصاف کرنا ہے۔

وکیل صفائی نے جج فرخ فرید سے حفاظتی ضمانت پر مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں۔

جج فرخ فرید نے کہا کہ عدالت اس وقت کوئی حفاظتی ضمانت نہیں دے سکتی۔

وکیل صفائی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ حفاظتی ضمانت کی درخواست دینی ہے، تب تک کے لیے آپ کی عدالت میں درخواست دینا چاہتے۔

سماعت کے آغاز میں جج فرخ فرید نے استفسار کیا کہ ملزمہ سومیہ عاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟

اسلام آباد پولیس نے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں