سیلاب نے بہا دیے خواب آنکھوں کے
تکلم برطرف | مشتاق اے سرور
پاکستان اس و قت ایک بار پھر سیلابی ریلوں کی زد میں ہے۔ پانی کے یہ طوفان صرف گھروں اور کھیتوں کو بہا کر نہیں لے جاتے بلکہ وہ ہماری اجتماعی غفلتوں کو بھی عریاں کر دیتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، زرعی زمینیں برباد ہو گئی ہیں، اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان آفات کو محض ”قدرتی حادثہ” کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اس میں ہماری اپنی کوتاہیاں زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ سیلاب ہمیں ایک بار پھر یاد دہانی کرا رہا ہے کہ اگر ہم نے وقت پر اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آئندہ برسوں میں یہ منظر اور زیادہ ہولناک ہو سکتا ہے۔
سیلاب کی بنیادی وجوہات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی نے شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار تیز کر دی ہے۔ مون سون کی بارشوں کا نظام بھی غیر متوازن ہو چکا ہے، کبھی بارشیں معمول سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں اور کبھی بالکل خشک سالی چھا جاتی ہے۔ یہ بے قاعدگی دراصل موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ لیکن صرف موسمیاتی تبدیلی ہی ذمہ دار نہیں، بلکہ ہمارے اپنے فیصلے اور طرزِ عمل نے بھی اس آفت کو تباہ کن شکل دی ہے۔
سب سے پہلی اور بنیادی کمی پانی کے ذخائر کی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر اس کی معیشت کا دارومدار جس پانی پر ہے، اس کے لیے ہمارے پاس محفوظ کرنے کی گنجائش نہایت محدود ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں بارشوں اور دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تیس دن سے بھی کم ہے، جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملک یہ صلاحیت چھ مہینے سے ایک سال تک رکھتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس بڑے ڈیمز اورپانی کے ذخائر ہوتے تو آج کے یہ تباہ کن ریلے بجلی پیدا کرنے اور زراعت کو سہارا دینے کے کام آتے۔ ہم بارش کے پانی کومحفوظ کر کے خشک سالی کے دنوں میں استعمال کر سکتے تھے، مگر ہم نے پانی کو قابو کرنے کے بجائے اسے ضائع ہونے دیا، اور جب وہ قابو سے باہرہوا تو سیلاب کی شکل میں بستیوں کو بہا لے گیا۔ کالا باغ ڈیم سمیت کئی منصوبے سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اگر ہم نے ان پر عمل کیا ہوتا تو آج کی صورتحال یقیناً مختلف ہوتی۔
دوسری بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ شمالی پاکستان کے پہاڑ کبھی گھنے جنگلات سے ڈھکے ہوئے تھے، جو بارش کے پانی کو جذب کر کے زمین کو سنبھال لیتے تھے۔ درخت فطری بند باندھتے تھے اور زمین کو کٹنے سے بچاتے تھے۔ مگر ہم نے اندھا دھند کٹائی کر کے ان فطری حفاظتی دیواروں کو تباہ کر ڈالا۔ اب ذرا سی بارش ہو تو پہاڑاپنی جگہ چھوڑنے لگتے ہیں اور مٹی کے تودے بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ درختوں کی جگہ کچے مکان اور پختہ سڑکیں بنا دی گئیں جو پانی کے بہاؤ کو روکنے کے بجائے مزید خطرناک بنا دیتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے جتنی تیزی سے درخت کاٹے، اتنی تیزی سے نئے درخت لگانے کی زحمت کبھی نہ کی۔ شہری منصوبہ بندی کی کمزوری بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ دریاؤں کے کناروں پر بے ہنگم آبادیاں قائم کر دی گئیں، نالوں پر قبضے ہو گئے، اور پانی کے قدرتی راستے بند کر دیے گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب پانی آتا ہے تو وہ اپنے راستے خود بناتا ہے اور ان نئی بستیوں کو بہا لے جاتا ہے۔ ہم نے زمین کو زبردستی قابو کرنے کی کوشش کی مگر یہ حقیقت فراموش کر دی کہ قدرت کے اپنے اصول ہوتے ہیں، جو انسانی خواہشات سے بالا تر ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں اس آفت سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے تھا اور مستقبل میں کیا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے۔ ہمیں نہ صرف نئے ڈیمز بنانے ہوں گے بلکہ موجودہ آبی ذخائر کی استعداد بھی بڑھانی ہوگی۔ پانی صرف زراعت کے لیے ہی نہیں بلکہ توانائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ پن بجلی سے پورا کریں تو درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ اسی طرح جنگلات کی بحالی کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم چلانی ہوگی اور یہ کام صرف تصویریں کھنچوانے یا وقتی شور شرابے کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ درخت لگانا صرف ماحولیاتی نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔ شہری منصوبہ بندی کے شعبے میں بھی اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ دریاؤں کے کنارے اور نالوں کے راستے کسی صورت آبادکاری کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ تجاوزات کے خاتمے اور نکاسی آب کے نظام کی بحالی کے بغیر ہم ہر سال اسی طرح کے مناظر دیکھتے رہیں گے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی صرف بلند و بالا عمارتیں بنانے کا نام نہیں بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول تخلیق کرنے کا نام ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے عالمی تناظر میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہوگی۔ دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جو کم آلودگی پھیلانے کے باوجود سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں نہ صرف بین الاقوامی فنڈز اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے بلکہ اندرون ملک بھی اپنی پالیسیاں بدلنی ہوں گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی سطح پرایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ ہمیں فوری طور پر بڑے آبی ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ شجر کاری کو محض مہم نہیں بلکہ ریاستی ترجیح بنایا جائے۔ نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور شہری منصوبہ بندی کو سختی سے نافذ کیا جائے تاکہ کوئی نئی بستی یا رہائشی اسکیم دریاؤں کے قدرتی راستوں میں نہ بن سکے۔ تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی شعور شامل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان غلطیوں کو نہ دہرا سکیں جو ہم کر چکے ہیں۔ پاکستان کو ماحولیاتی انصاف کے لیے بین الاقوامی سطح پرمؤثر آواز اٹھانا ہوگی تاکہ ہمیں ٹیکنالوجی، سرمایہ اور معاونت مل سکے۔ اگر ہم نے ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا تو ہم نہ صرف سیلاب جیسی آفات کے نقصانات کو کم کر سکیں گے بلکہ اپنی معیشت اور معاشرت کو بھی ایک محفوظ اور پائیدار بنیاد پر استوار کر سکیں گے