الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ضمنی انتخابات ملتوی ہونے سے پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی طور پر بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
قومی اسمبلی کے 9حلقوں سے عمران خان جبکہ ایک حلقے سے شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی امیدوار ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف متذکرہ 13حلقوں سے یقینی جیت کی دعوے دار تھی ۔
ضمنی انتخابات کی پولنگ ملتوی ہونے سے پاکستان تحریک انصاف کے مدمقابل مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی،جےیوائی،اے این پی ایم کیو ایم اور دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کے علاؤہ آزاد امیدواروں کی عروج پر انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں اچانک انتخابات ملتوی ہونے سے ان انتخابی حلقوں میں خرچ ہونے والے کروڑوں روپے ضائع چلے جانے کا خدشہ ہے۔
ان تمام حلقوں میں حکومت اور اپوزیشن کے امیدوار تمام تر وسائل اپنی جیت کے لیے جھونک رہے تھے جبکہ آزاد امیدوار بھی اپنے حلقوں میں سیاسی وجود قائم رکھنے کے لیے اپنے طور پر انتخابی مہم میں بھاری اخراجات کررہے تھے لیکن پولنگ سے چند روز قبل ملتوی ہونے کے اعلان نے سب سے زیادہ پاکستان تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا ہے ۔
ضمنی انتخاب ملتوی ہونے والے والے حلقوں سے بعض امیدواروں کا کہنا ہے کہ اُن کے حلقوں میں سیلاب کی کیفیت تھی ، بارشیں نہ ہی پولنگ سٹیشنوں کے حوالے سے کوئی مسائل تھے لیکن الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرکے انہیں نہ صرف پریشان کردیا ہے بلکہ ان کی تمام تر تیاریاں بھی خاک میں ملاکر انکا کروڑوں روپے کا نقصان کردیا ہے۔
183