108

عنوان: جدت کا سفر تحریر: میاں وقارالاسلام

عنوان: جدت کا سفر
تحریر: میاں وقارالاسلام

سوچنے اور سمجھنے کا کام مشینوں نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، ہو سکتا آگے آنے والی جنریشن جذبات اور احساسات سے خالی ہو۔اگر ہم آج کی جنریشن کے احوال دیکھیں تو زیادہ تر احساسات اور جذبات صرف بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

انسانوں کو ایک دوسرے کے احوال جاننے میں اتنی دلچسپی نہیں، جتنی ایک دوسرے کی مشینوں کے احوال جاننے میں دلچسپی ہے، یعنی آپ کا موبائل کون سا ہے اور کس کمپنی کا ہے۔ایک وقت تھا انسان اپنی کمپنی سے پہچانا جاتا تھا، آج انسان اپنے موبائل کی کمپنی سے پہچانا جاتا ہے۔

موبائل چاہے چوری کا ہی ہو، اگر آپ کے ہاتھ میں مہنگا موبائل ہے تو ذہن میں پہلی بات یہی آئے گی، یہ پڑھا لکھا بھی ہو گا اور امیر بھی۔ مشینی کلچر کے ہمیشہ بہت فائدے رہے ہیں، اور رہیں گے، مگر جو خرابیاں ہیں، وہ بھی ساتھ ساتھ بڑھنی ہیں۔

ہم سے زیادہ وقت تو ہمارے بچوں کو موبائل اور ٹیبلیٹ ہی دیتے ہیں، بلکہ ہم سے ہمارا وقت بھی یہی مشینیں کھینچ لیتی ہیں۔پرانی ٹیکنالوجی نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کیا تھا، نئی ٹیکنالوجی یعنی اے آئی یقینا ہمیں آپنے آپ سے دور کر دے گی۔

ہمیں کیا پسند ہے، ہم نے کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، کہاں جانا ہے کیا کرنا ہے یہ فیصلے بھی اب مشینیں کریں گی۔ہم جن چیزوں کی طرف لپکتے ہیں ہمارے بچے 10 گنا زیادہ سپیڈ سے اس چیز کی طرف لپکتے ہیں(اگر اس میں جدت کا پہلو ہو) اور بہت جلد ہمیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی پروڈکٹیویٹی ٹول کے طور پر استعمال ہے، جب کہ پسماندہ ممالک میں یہ لگثری آئیٹم بن جاتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو زندگی میں اتنا ہی شامل کیا جائے ،جتنا یہ آپ کی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے کافی ہو تویقینا یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

اگر ٹیکنالوجی اوور لوڈیڈ ہو اور آپ کو آئیسولیشن میں لے جائے یا آپ کی کارکردگی ہی صفر کر دے تو یہ واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لوگ دو کروڑ کی گاڑی لیتے ہوئے اتنا نہیں سوچتے جتنا 10، 20 یا 30 لاکھ کے سولر کو لگوانے کے لیے سوچتے ہیں۔

موبائل مہنگے سے مہنگا لیں گے اور لیپ ٹاپ کو اپ گریڈ نہیں کریں گے، یا اپنے ورکنگ ٹولز کو بہتر نہیں کریں گے۔ اور یہی المیہ ہے ، یا پھر کم علمی ہے۔یا پھر جہالت

اس ڈر سے کہ بچے خراب ہو جائیں گے انہیں ٹیکنالوجی سے اتنا دور کر دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ ان کے بچے آؤٹ ڈیٹیڈ ہو جاتے ہیں۔ یا پھر بچوں کو ٹیکنالوجی کے اتنا قریب کر دیا جاتا ہے کہ بچے والدین سے ہی دور ہو جاتے ہیں، یا پھر بچوں کی صحت پر منفی اثر ات پڑتے رہتے ہیں۔

ضرورت کے لیے ٹیکنالوجی کو استعمال کریں چاہے خود کار روبوٹس بھی رکھ لیں، اس کے فائدے ہی فائدے ہیں اور دنیا اس سے آگے ہی بڑھ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی یہ نہیں کہتی کہ آپ لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں، نماز نہ پڑھیں اور اور نیک کام نہ کریں، یا صحت گنوا دیں، یہ فیصلہ ہمارا اپنا ہوتا ہے۔

ہم وقت کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہم نے ٹیکنالوجی سے اس قدر فائدہ نہیں اُٹھایا جس قدر فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ پھر ائے آئی نے ٹیکنالوجی کے پرانے دور کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے، دنیا یکسر بدل چکی ہے اور ترقی کے نئے راستے دریافت کر چکی ہے۔

ہم ٹیکنالوجی کے ایک پرانے کھنڈر میں گھوم رہے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کہاں پھنس گئے ہیں۔

جنہوں نے اے آئی دریافت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری سوچ سے بھی آگے نکل جائے گی۔ جنہوں نے ابھی اے آئی کو سمجھا ہی نہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ اے آئی کبھی کامیاب ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جدت کا سفر، علم کا سفر ہے، ترقی کا سفر ہے، نئے راستوں کے تعین کا سفر ہے، انسان نے چاہتے ہوئے یہ نہ چاہتے ہوئے اس پر چلنا ہی ہے۔ منزل ہمیشہ آگے کی طرف ہوتی ہے، اسے کبھی پرانے کھنڈروں میں تلاش نہیں کیا جاتا، نہ ہی بیٹھ کر لکیر پیٹنے سے منزل ملتی ہے۔

ہمارا لڑکپن تھا، ہم اس کالج میں گھس جاتے جس کے باہر آئی ٹی کا بورڈ لگا ہوتا، اس ٹیچر کے پاس بیٹھ جاتے، جسے آئی ٹی کا علم تھا، دنیا بدل چکی ہے، نوجوان اس کالج میں جاتے جس کے باہر اے آئی کا بورڈ لگا ہو، اس ٹیچر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، جسے اے آئی کا علم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں