318

چینی چور، مافیا اور تاریخ پاکستان – تحریر: میاں عصمت رمضان

پاکستان کی تاریخ میں شوگر مافیا کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔جب سے پاکستان بنا ہے پاکستان میں چینی کا سکینڈل ہر دور میں رہا ہے ۔ہر حکومت کے لیے شوگر مافیا کو کنٹرول کرنا ناممکن رہا ہے ۔پورا سال اور سپیشل ماہ رمضان کا بابرکت مہینہ چینی مافیا کے لیے ہمیشہ ہی خوش بخت رہا ہے ۔
پاکستان میں کوئی بھی حکومت برسر اقدار رہی ہو اس کے لیے سب سے اہم ایشو چینی کو کنٹرول کرنا اور چینی مافیا سے لڑنا ہوتا ہے ۔ماہ رمضان میں لمبی لمبی قطاریں گورنمنٹ کا اسپیشل چینی کے بارے میں اشتہارات کی برمار اور پھر سپیشل چینی کو کنٹرول کرنے کا ٹاسک ہر حکومت کا ایک اہم جز رہا ہے
ہٹلر کے دست راست گوئبل نے کہا تھا جھوٹ بولو، خوب بولو، اتنا بولو کہ سچ کا گماں ہونے لگے۔ آج کے دور کی سیاست بھی ایسی ہی ہے۔ اگر کوئی سیاستدان کچھ بھی کہہ دیتا ہے تو بزرگ ایسی حالت میں ہیں کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن نوجوان نسل جن کی اکثریت ہے وہ اس کوہی تن من دھن سے تسلیم کرتی ہے۔ ویسے بھی مطالعہ، سننے اور سیکھنے سکھانے کا عمل تو کب کا ہمارے معاشرے میں دم توڑ چکا ہے۔ ایسے میں کوئی کچھ بھی زور زورسے کہیں بھی بولے نوجوان نسل یقین کر لیتی ہے۔
اب چینی کی قیمت دیکھو کہاں تک پہنچ گئی تازہ ترین چینی کے ریٹ دیکھ لیں چینی کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی مارکیٹ میں چینی کی کوئی بھی قیمت فکس نہیں ہے کہیں یہ 200 روپے کلو کہیں یہ 220 روپے کلو اور کہیں یہ بالکل ہی نیایاب ہوئی ہوئی ہے
پچھلی حکومت میں چینی 140 روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔ اب انہیں بھی پتا تھا کہ کون پوچھتا ہے یہاں، اس سے قبل بھی تو وہ اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں لیکن کم از کم عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا اور یاد دلانا چاہئے کہ جس صدر ایوب کے دور کی مثالیں دی جاتی ہیں چینی بحران کا آغاز وہیں سے ہوا۔ بلکہ آئیے دیکھتے ہیں کہ چینی کی مہنگائی کی داستان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہو گا کہ مہنگائی کب کب کیسے کیسے بڑھی۔قیام پاکستان 1947 میں نواب زادہ لیاقت علی خان کے دور میں یعنی 1951 میں ان کی شہادت تک چینی ساٹھ پیسے فی کلو ملتی رہی۔1951سے1957 تک یعنی خواجہ نظام الدین کے دور میں چینی75پیسے فی کلو تک ملتی رہی۔1958 سے1969 تک ایوب خان اقتدار پر رہے اور چینی ایک روپے75 پیسے کلو تک پہنچی۔یہ اس وقت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا شوگر سکینڈل تھا۔ایسی بات بالکل نہیں کہ اس دور میں اور کوئی سکینڈل نہیں تھا لیکن عوامی سطح پر بات چینی سے ہی بگڑنی شروع ہوئی۔
اخر کار ایسا کون سا شوگر مافیا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں 1947 سے لے کر 2025 تک کسی بھی حکومت کا ان پر کنٹرول نہیں رہا ۔
پاکستان کی عوام کو تو ایسا لگتا ہے کہ چینی مافیا جیسے ہر حکومت کا پسندیدہ شعبہ رہا ہے کیونکہ کسی بھی حکومت نے اس اہم معاملے کو اج تک سیریس نہیں لیا جب تک ان کی حکومت رہتی ہے یہ معاملہ ایسے ہی لٹکتا رہتا ہے۔ دنیا چاند کو مسخر کرنے کے بعد پتہ نہیں کہاں کہاں سے جدید ٹیکنالوجی اپنا رہی ہے اور اج ہم پاکستان میں اج بھی پانی بجلی اور چینی کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اخر کب تک ہم ایسے ہی مسائل میں گھرے رہیں گے اور پاکستانی عوام ہر روز ہر روز ایک نئے مسئلے کو حل کرنے میں لگی رہے گی ۔پاکستانی عوام کے گھر کی عورتیں گھر کا کام کرنے کی بجائے کبھی چینی کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں اور کبھی گھی اور کبھی اٹے کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑی نظر اتی ہے ۔سارا دن ایک کلو چینی کو حاصل کرنے کے لیے بیچاری عورتیں اپنا پورا گھر بار چھوڑ کر ایک کلو چینی کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑی نظر اتی ہے-
دراصل یہ شوگر مافیا کا ایک انداز ہے کہ جب بھی چینی کو ریٹ بڑھانا ہو چینی کو اتنا بڑھا دو کہ ملک میں چینی کا فقدان ہو جائے حکومت وقت کو اس میں مداخلت کرنی پڑتی ہے اور اگر چینی 150 روپے کلو ہے تو شوگر مافیا اس کو 200 روپے کلو تک لے جاتی ہے اس کے بعد حکومت وقت کو اس میں مداخلت کرنی پڑتی ہے اور ان کے دونوں کے درمیان ریٹ کو فکس کر دیا جاتا ہے اس طرح حکومت کا پاکستانی عوام پر احسان ہو جاتا ہے اور شوگر مافیا کو بھی اپنی قیمتیں بڑھانے کا موقع مل جاتا ہے
اب جبکہ حکومت اور شوگر انڈسٹری کے درمیان معاملات طے پا گئے، چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقرر کردی گئی۔وزارت غذائی تحفظ کے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ شوگر ملوں کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں اب چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقرر کردی گئی ہے، تمام صوبائی حکومتیں اس فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائیں گی۔
یہاں پر عوام کا یہ سوال کرنا تو بنتا ہے کہ حکومت نے چینی کی قیمت میں کمی کے لیے چینی کی امپورٹ پر عارضی طور پر ٹیکسز ختم کردیے ہیں مگر تاحال قیمت میں کمی نظر نہیں آرہی کیا یہ شوگر مافیا کا گٹھ جوڑ ہے جو ذخیرہ اندوزی اور دیگر حربوں سے چینی کی قیمت بڑھارہا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں