88

کرسمس کے رنگ، محبتوں کے سنگ.تٍحریر-ڈاکٹرصغرا صدف

کرسمس کے رنگ، محبتوں کے سنگ.تٍحریر-
ڈاکٹرصغرا صدف
تہوار مذہبی ہوں یا ثقافتی، محبت،بھائی چارے کے پرچارک ہوتے ہیں۔انکا مقصد مختلف راستوں پر گامزن لوگوں کو اکٹھ میں تبدیل کر کے خوش ہونے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔یہ خطہ جس کے ہم وارث ہیں، دنیا کی عظیم تہذیبوں اور مذاہب کا مسکن رہنے کے باعث ثقافت کی اعلیٰ قدروں کا امین ہے۔اس لئے ہمارے مذہبی تہوار بھی ثقافتی رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں۔یوں وہ صرف مخصوص عقائد کی پیروی کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہمہ گیر شکل اختیار کر کے سب کو دائرے میں سمیٹ لیتے ہیں۔ بیس دسمبر سے کرسمس کی تقریبات شروع ہو چکی ہیں۔خوشی اس بات کی ہے کہ اس بار یہ تقریبات مسلم شخصیات اور تنظیموںکی طرف سے منعقد ہو رہی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد بھی تمام قومیتیں ایک دوسرے کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اور خوشیاں بکھیرتی تھیں۔پھر کسی جادوگر نے ہمارے پانیوں زہر ملا دیا تو فضائیں محبت کے گیتوں کی بجائے نفرت کے نعروں سے آلودہ ہو گئیں۔صد شکر کہ ہم نے دوبارہ محبت کی رہگزر پر سفر آغاز کر دیا ہے۔
سُندس فائونڈیشن اور پلاک کے تعاون سے کرسمس کا رنگارنگ پروگرام بہت سے مایوس دلوں میں امید کی شمع روشن کر گیا۔شہر کی معتبر علمی،ادبی اور ثقافتی شخصیات کی شرکت اور بچوں کی عمدہ پرفارمنس نے اس پروگرام کو یادگار بنا دیا۔یاسین احمد،آصف عفان،خالد عباس ڈار( ڈارلنگ) نے اپنے مسیحی بہن بھائیوں کو خوش آمدید کہا۔طارق طافو نے خوبصورت نغمے گائے۔محفلِ سماع کی شروعات میں جب قوال پارٹی نے نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی ’’اللہ ھو‘‘ والی شہرہ آفاق قوالی شروع کی تو ہال میں موجود ہر نوجوان لڑکی اور لڑکا نہ صرف ساتھ ورد کر رہا تھا بلکہ ایک عجیب تقدس اور سرشاری کا اظہار بھی کر رہا تھا۔پروگرام کا حاصل سہیل وڑائچ کی مختصر تقریر تھی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمیں آپسی محبت کی ضرورت پر لیکچر دینے کی بجائے عملی طور پر اس کا آغاز کرنا چاہئے، کیا ہی اچھا ہوکہ ہم کرسمس کے موقع پر دوستوں کے گھر کیک بھیجنا شروع کردیں۔میں نے پروگرام میں اس پر عمل کا اعادہ کیا، آج گھر میں کرسمس ٹری رکھا کچھ دوستوں کو کیک بھیجا اور واٹس ایپ پر میسج بھی بھیج رہی ہوں۔یقین کیجئے اس سے میرے ایمان میں کمی نہیں مضبوطی ہوئی ہے۔اہلِ کتاب میں ایک خاص قربت موجود ہے۔دیکھا جائے تو ہر مذہب کے پیرو کاروںمیںبہت سے اشتراکات ہیں جو انسانیت سے انسیت کی علامت ہیں۔یہ سرزمین روحانی لہروں کے حصار میں ہے، اسے نفرت کی دھند زیادہ دیر میلا نہیں کر سکتی۔محبت کی طاقتور دھوپ سب الائشیں جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ ہمیں’’ لا اکراہ فی الدین‘‘ پر عمل کرتے ہوئے دیگر قومیتوں، جو کم تعداد میں ہیں ،کے آزادی اور خوشی سے زندگی کرنے میں مددگار بننا چاہئے۔ ہمارے نبیﷺ نے جن کیلئے اپنی مسجد میں جگہ بنائی ہماری انکھوں،دلوں اور احساس میں ان کیلئے احترام کا جذبہ دکھائی دینا چاہئے۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام غریبوں اور بے سہاروں کے مددگار بنکر اس دنیا میں آئے انھوں نے وقت کی جابر قوتوں کو للکارا،پچھاڑا اور انسان کا وقار بلند کیا۔ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں،حضرت مریم کی پاکیزگی کی قسم کھاتے ہیں تو انکے پیروکاروں سے فاصلہ کیوں۔ پلاک میں ہی چند دن پہلے ریورنڈ ڈاکٹر سیمسن طارق کے کالموں کے مجموعے ”شمع جلتی رہے گی ” کی تقریب رونمائی بھی کرسمس کی تقریبات کا ہی پروگرام تھا جس کی صدارت ہر دلعزیز شاعر اور دانشور ڈاکٹر کنول فیروز نے کی۔ڈاکٹر کنول فیروز مسیحی مذہب کے پیروکار ہیں اور لاہور کی محفلوں کی جان ہیں۔انھیں سرکار نے تمغہ امتیاز عنایت کیا اور لاہوریوں نے تمغہ محبت۔ ریورنڈ ڈاکٹر سیمسن طارق امریکہ میں مقیم ہیں لیکن ان کی فکر میں وطن کی محبتیں سمائی ہوئی ہیں۔ان کے کالموں میں پاکستان کی ترقی اور شہریوں کے حقوق کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مسیح برادری کو درپیش مسائل کا بھی تذکرہ ہے۔ ضروری ہے کہ مسیحی نوجوان ملازمت کے حوالے سے خود کو مخصوص شعبوں تک محدود نہ رکھیں اور نہ ہی سرکاری اشتہارات میں ایسا متعصبانہ رویہ ظاہر کیا جائے۔ حکومت مستحق ذہین بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرے تاکہ انہیں ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں