186

وزیر اعلی پنجاب کی نااہلی کیلئےلاہور ہائیکورٹ اپنا فیصلہ سنادیا

لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزادر کی نا اہلی کے لیے دائردرخوست پر اعتراض لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض لگا کر پٹیشن وکیل کو واپس کردی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکور ٹ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی نااہلی کے لئے دائردرخواست پراعتراض لگادیا،ہائیکورٹ کے رجسٹرارآفس نے درخواست پراعتراض لگاکرپٹیشن واپس کردی،رجسٹرارآفس حکام کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے تونسہ شریف سے الیکشن لڑا،وزیراعلیٰ کی نااہلی کا کیس ہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ پردائرنہیں ہوسکتا،عثمان بزدارکی نااہلی کے لئے ملتان بینچ سےرجوع کیاجاسکتاہے۔
علاوہ ازیں عدالت نے درخواست میں وزیراعلیٰ کوبذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنانےپربھی اعتراض کیاگیا،ایڈووکیٹ عبدالوحید خان نے وزیراعلیٰ کی نااہلی کیلئے درخواست دائر کی،وفاقی حکومت،الیکشن کمیشن ،عثمان بزدار سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزوزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی نااہلی کےلئے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی تھی۔درخواست ایڈووکیٹ عبدالوحید بلوچ کی جانب سے دائر کی جس میں الیکشن کمیشن اورریٹرننگ افسرکوفریق بنایاگیا تھا،درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیاگیاہے کہ عثمان بزدارپی پی 286سے جیت کررکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔عثمان بزادرنے کاغذات نامزدگی میں اثاثوں کی کم مالیت ظاہرکی،درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عثمان بزدارحقائق چھپاکرصادق اورامین نہیں رہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکو نااہل قراردے۔

یار رہے کہ عثمان بزدار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 2018ء میں جمع کی گئیں دستاویزات میں اپنے اثاثوں کی مالیت 25 ملین روپے ظاہر کی۔ ان کے پاس 2.4 ملین مالیت روپے کے تین ٹریکٹر اور 3.6 ملین روپے مالیت کی دو گاڑیاں ہیں، سردار عثمان بزدار ایم اے ایل ایل بی ہیں، ان کا پیشہ ایڈووکیٹ اور زمیندارہ ہے۔دستاویزات کے مطابق عثمان بزدار کے پاس 20 تولہ سونا اور 50 ہزار روپے کا فرنیچر ہے، جبکہ ان کے چار بینکوں میں اکائونٹس ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے 3 انشورنس پالیسیاں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں