126

جاہل مرد اور باصلاحیت عورت کی بربادی تحریر : رخسانہ سحر

عنوان: جاہل مرد اور باصلاحیت عورت کی بربادی
تحریر: رخسانہ سحر
معاشرہ جب کسی فرد کے ہاتھ میں اختیار دیتا ہے تو وہ اختیار محض فیصلے لینے کا نہیں ہوتا، بلکہ کئی زندگیاں سنوارنے یا برباد کرنے کی قوت بھی ساتھ لے آتا ہے۔ یہی طاقت اگر ایک جاہل، انا پرست، غیر محفوظ مرد کے ہاتھ میں ہو، تو وہ کسی باصلاحیت، حساس اور ذہین عورت کی شخصیت کو کچلنے میں دیر نہیں لگاتا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر باصلاحیت عورتیں رشتوں، گھریلو ذمہ داریوں یا “عزت” کے نام پر ایسے افراد کے حوالے کر دی جاتی ہیں جنہیں نہ تو ان کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ان کے خوابوں کا احترام۔ جاہل مرد صرف وہ نہیں جو تعلیم سے دور ہو، بلکہ وہ ہے جو عورت کی ذہانت سے خوفزدہ ہو، جو اس کی خودمختاری کو اپنی مردانگی کے لیے خطرہ سمجھے، اور جو اس کے اظہارِ ذات کو “بغاوت” سے تعبیر کرے۔
ایسی فضا میں عورت کو یا تو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے یا خاموشی کی چادر اوڑھ کر جینا پڑتا ہے۔ اس کی تخلیقی توانائیاں، اس کی فکری پرواز، اس کا شعور—سب آہستہ آہستہ گھٹنے لگتے ہیں۔ وہ لکھنے سے پہلے سوچتی ہے، بولنے سے گھبراتی ہے، اور آخرکار اپنے اندر کی روشنی کو بجھا دیتی ہے تاکہ گھر میں سکون رہ سکے، رشتے بچ سکیں، یا معاشرہ اسے “اچھی عورت” تسلیم کرے۔
یہ صرف ایک عورت کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا سانحہ ہے۔ ہم ایک استاد، ایک لکھاری، ایک مفکر، ایک فنکار، ایک رہنما کھو دیتے ہیں—صرف اس لیے کہ ایک مرد کی جہالت کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اس نقصان کو معمول سمجھتے رہیں گے؟ کب تک باصلاحیت عورتوں کو ایسی زندگی کی سزا دی جاتی رہے گی جو ان کا حق نہیں؟ اور کب ہم اس المیے کو صرف ذاتی کہانی نہیں، اجتماعی فکری بحران کے طور پر تسلیم کریں گے؟
ایک جاہل آدمی نہ صرف باصلاحیت عورت کی قدر کرنے سے قاصر ہوتا ہے بلکہ اپنی ناسمجھی، انا اور عدم تحفظ کے باعث اس کی صلاحیتوں کو دبا بھی سکتا ہے۔
عورت چاہے جتنی باہنر ہو، اگر اس کا ماحول اس کی پرورش، عزت اور آزادی کا حامی نہ ہو، تو اس کے امکانات گھٹنے لگتے ہیں۔
یہ جملہ صرف ذاتی رشتوں ہی نہیں، بلکہ معاشرتی اور ادبی حوالوں سے بھی سچ ثابت ہوتا ہے، جہاں عورتوں کی صلاحیتوں کو اکثر جاہلانہ رویوں اور دقیانوسی نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔
معاشرتی ناانصافی کی بہت سی شکلیں ہمارے سامنے روز بروز آتی ہیں، لیکن سب سے خاموش اور سفاک ظلم وہ ہے جو باصلاحیت عورتوں کے وجود پر ڈھایا جاتا ہے۔ یہ ظلم کسی قید خانے، کسی کوڑے یا سنگسار سے کم نہیں، لیکن اس کا شور نہ عدالت میں سنائی دیتا ہے، نہ خبرنامے میں۔ یہ اس گھر کی چار دیواری میں ہوتا ہے جہاں ایک عورت کی ذہانت کو اس کی نافرمانی سمجھا جاتا ہے، اور اس کی خودی کو اس کی ہلاکت کا سبب بنا دیا جاتا ہے۔
ایسی عورت، جو خداداد صلاحیتوں کی حامل ہو، اگر کسی جاہل، کم ظرف یا کم علم مرد کے حوالے کر دی جائے، تو عین ممکن ہے کہ وہ عورت اپنی ساری فکری اور تخلیقی قوتوں کے ساتھ تباہ ہو جائے۔ جاہل مرد سے مراد صرف غیرتعلیم یافتہ انسان نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو عورت کی ذات کو صرف ایک فرعی وجود سمجھتا ہے، جسے اطاعت اور خدمت کے سوا کچھ نہیں آنا چاہیے۔
ادبی دنیا میں اس المیے کی بےشمار مثالیں موجود ہیں۔ قرۃالعین حیدر جیسی بلند پایہ ادیبہ نے اپنے ناول آگ کا دریا میں مختلف ادوار کی عورتوں کو نہ صرف تاریخی تسلسل میں دکھایا بلکہ ان کی فکری آزادی کی جدوجہد کو بھی قلمبند کیا۔ ان کے کردار اکثر ایسے مردوں سے ٹکراتے ہیں جو ان کی فہم اور آزادی سے خائف ہوتے ہیں۔
اسی طرح عصمت چغتائی نے اپنی کہانیوں میں اس سماجی رویے پر گہری ضرب لگائی۔ ان کی مشہور کہانی لحاف صرف جنسی الجھنوں کی کہانی نہیں بلکہ عورت کی تنہائی اور اس پر مسلط کردہ خاموشی کی داستان بھی ہے۔ وہ تنہائی اکثر اس وقت جنم لیتی ہے جب عورت کا شوہر اس کے وجود کو فقط جسمانی سطح پر تسلیم کرتا ہے اور اس کی ذہنی، جذباتی اور فکری پرتوں کو مکمل نظر انداز کر دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں شاعرہ، ادیبہ، مصورہ یا مفکر عورت کو صرف اس وقت قبول کیا جاتا ہے جب وہ مردوں کے بنائے ہوئے پیمانوں پر خاموشی سے چلتی رہے۔ اگر وہ ان پیمانوں سے ہٹ کر بولتی ہے، سوچتی ہے، یا سوال اٹھاتی ہے، تو اس کی تربیت، کردار اور نیت سب زیرِ سوال آ جاتے ہیں۔
معروف شاعرہ پروین شاکر کی زندگی بھی اس حوالے سے ایک حساس مثال ہے۔ ان کی شاعری میں عورت کی ذات کے پیچیدہ رنگ، اس کی محبت، شکست، اور خودی کے موضوعات جابجا ملتے ہیں۔ لیکن ان کی ذاتی زندگی میں انہیں جن رکاوٹوں اور مخالفتوں کا سامنا تھا، وہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ ایک باصلاحیت عورت کو جاہل مرد صرف اس لیے قبول نہیں کر پاتا کہ وہ اس کی برتری سے خائف ہوتا ہے۔
یہ صرف ادبی دنیا تک محدود مسئلہ نہیں۔ ہر اس شعبے میں جہاں عورت سوچ سکتی ہے، تخلیق کر سکتی ہے، قیادت کر سکتی ہے—وہاں وہ مرد کی غیرمحفوظ انا سے ٹکرا جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ عورت پیچھے ہٹ جاتی ہے، یا اس کی راہیں اتنی دشوار بنا دی جاتی ہیں کہ وہ آخرکار خاموش ہو جاتی ہے۔
یہ خاموشی سب سے بڑا نقصان ہے۔ جب ایک عورت خاموش ہوتی ہے، تو ایک کہانی، ایک نظم، ایک نظریہ، ایک ایجاد اور ایک مستقبل ہم کھو دیتے ہیں۔
آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہے:
کیا ہم عورت کو اس کی صلاحیت کے ساتھ قبول کرنے کو تیار ہیں؟
کیا ہم اس سماج کو بدل سکتے ہیں جہاں عورت کی ذہانت اس کی سزا بن جائے؟
یا ہم یونہی جاہل مردوں کے ہاتھوں مستقبل کی شمعیں بجھتے دیکھتے رہیں گے؟
یہ مسئلہ آج بھی ہمارے اردگرد اسی شدت سے موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی باصلاحیت خواتین ادیباؤں اور شاعراؤں نے ادبی منظرنامے سے یا تو خود کو پیچھے ہٹا لیا یا خاموشی اختیار کر لی۔ ان کی تخلیقات کو نظرانداز کرنا، ان کے ساتھ بدسلوکی، یا محض اس بنیاد پر ان پر تنقید کہ وہ “زیادہ بولتی ہیں” یا “خود کو بڑا سمجھتی ہیں”، ہمارے ادبی اداروں اور میلوں میں روز کا معمول بن چکا ہے۔
گزشتہ برس ایک معروف ادبی ایوارڈ کی نامزدگیوں پر ہونے والی تنقید میں یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ بعض ممتاز خواتین لکھاریوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔ ان میں سے بعض نے سوشل میڈیا پر اپنی ناگواری کا اظہار کیا، لیکن بہت سی خواتین خاموش رہیں — کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ نظام انہی جاہل مگر بااختیار مردوں کے ہاتھ میں ہے، جو صرف خوشامد اور تابع داری کے صلے میں ہی داد دیتے ہیں۔
اسی طرح حال ہی میں ایک ممتاز شاعرہ نے اپنی تخلیقی جدوجہد کے بارے میں ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“مجھے مردوں کے حلقے میں شاعرہ ماننے سے پہلے عورت ہونے کی کئی قیمتیں چکانی پڑیں۔ میری نظم سے زیادہ میرے لباس اور انداز پر بات ہوئی۔ میرے لہجے سے زیادہ میرے تعلقات زیرِ بحث رہے۔”
یہ الفاظ صرف ایک فرد کی نہیں، ایک مکمل طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مزید برآں، ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ آج کی باصلاحیت عورت کو صرف شوہر یا خاندان کے جاہل رویے سے نہیں، بلکہ ادبی اداروں، پبلشرز، ایڈیٹروں، اور اسٹیج پر داد کے وارث خودساختہ “نقادوں” سے بھی واسطہ ہے، جو اس کی آواز کو سہارا دینے کے بجائے اسے خاموش کروانے کے درپے ہوتے ہیں۔
یہ کالم محض ایک فکری مشق نہیں، بلکہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت کی عکاسی ہے۔ ہمیں اب اس جملے کو صرف ایک سچائی کے طور پر نہیں، ایک احتجاج، ایک چیخ، اور ایک سوال کے طور پر قبول کرنا ہو گا:
“ایک جاہل آدمی باصلاحیت عورت کو ضائع کرنے کی طاقت رکھتا ہے” — اور شاید اسی لیے وہ اسے پہچاننے سے ڈرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں