“رابطے کی زبان اردو، لیکن شناخت کی نہیں؟”
تحریر۔رخسانہ سحر
کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا…
یہ محاورہ آج ہماری زبان، تہذیب اور تعلیمی شناخت پر اتنا فٹ بیٹھتا ہے کہ جیسے کسی نے سچائی کا کڑوا پھل ہمارے منہ میں زبردستی ڈال دیا ہو۔
آج سوشل میڈیا پر روزانہ لاکھوں پیغامات اردو میں لکھے جاتے ہیں، مگر رومن رسم الخط میں۔ “mujhe tum se mohabbat hai” جیسے جملے نہ اردو لگتے ہیں نہ انگریزی — بلکہ ایک ایسی ٹوٹی پھوٹی لسانی لاشیں ہیں جن سے نہ جذبات مکمل ظاہر ہوتے ہیں، نہ زبان کا وقار سلامت رہتا ہے۔
ہمارے تعلیمی ادارے اس بدحالی کا گہوارہ بن چکے ہیں۔
نہ اساتذہ خود املا کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، نہ کتابوں میں معیار باقی رہا۔ اردو کی نصابی کتب میں ایسی فاش اغلاط ہیں کہ ایک پڑھا لکھا شخص بھی شرمندہ ہو جائے۔ اساتذہ کی جانچ پڑتال صرف نمبر لگانے تک محدود ہو چکی ہے۔ کاپیوں میں “ض” کی جگہ “ز”، “ق” کی جگہ “ک”، “ہے” کی جگہ “ہےیی” پڑھ کر کسی استاد کو شرمندگی نہیں ہوتی۔
اور قصور صرف نئی نسل کا ہے؟
نہیں! یہ نسل تو وہی چہرہ ہے جو ہم نے تراشا ہے۔
قصور ہمارے نظام کا ہے، ہماری ترجیحات کا ہے، اور اس مصنوعی تہذیب کا ہے جس نے انگریزی کو علم کی سند، اور اردو کو شرمندگی بنا دیا ہے۔
میرے بچے انگریزی نہایت شوق سے سیکھتے ہیں، لکھتے ہیں، بولتے ہیں۔ مگر اردو؟ وہاں میرا صبر آزمایا جاتا ہے۔ میں جب ان سے کہتی ہوں کہ اردو کی بھی اہمیت ہے، تو وہ کہتے ہیں:
“امی! دفتروں میں تو انگریزی ہی کام آتی ہے، اردو تو بس گھر کے کام کی ہے”
یہ جملہ میرے دل میں تیر بن کر گرتا ہے۔
یہ صرف میرے بچوں کا جواب نہیں، یہ ایک پوری نسل کی سوچ ہے — جو روزانہ اردو کو غیر سرکاری، کم تر اور غیر ضروری سمجھ کر دفن کر رہی ہے۔
یہ وہی نسل ہے جس کے لیے “your welcome” اور “how r u?” روز مرہ ہے، لیکن “خوش آمدید” اور “آپ کیسے ہیں؟” اجنبی لگتا ہے۔
اب نہ اردو مکمل آتی ہے، نہ انگریزی میں املا یا جملہ سازی کی سوجھ بوجھ ہے۔
تو نتیجہ کیا نکلا؟
ایک ایسی لنگڑی لسانی شناخت، جو نہ یہاں کی رہی نہ وہاں کی۔
زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں — زبان تہذیب ہے، تاریخ ہے، شعور ہے، اظہار کا حسن ہے۔ جب ہم اپنی زبان کی بے حرمتی کرتے ہیں، تو اصل میں ہم اپنے ماضی، اپنی جڑوں، اور اپنے فکری وجود کا انکار کرتے ہیں۔
جس قوم نے اپنی زبان کھو دی، اس نے اپنی پہچان کھو دی۔
ہم اب بھی سنبھل سکتے ہیں — اگر گھروں میں اردو بولنے پر شرمندگی نہ ہو،
اگر اسکولوں میں اردو لکھوانے کا معیار بلند کیا جائے،
اگر والدین بچوں سے صرف انگریزی میں خوش نہ ہوں، بلکہ اردو کی روانی پر بھی فخر کریں۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب نئی نسل کے لیے
“قلم”، “کتاب”، “خواب”، “احساس”، جیسے الفاظ صرف لغت میں بچے رہ جائیں گے۔
ہم جس نسل میں جی رہے ہیں، وہاں بارہویں جماعت کا طالب علم “پالا پڑنا” محاورے کو صرف موسم سے جوڑ کر لکھتا ہے: “سردیوں میں سخت پالا پڑتا ہے”۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا اصل مطلب کسی مشکل، جھنجھٹ یا آزمائش کا سامنا کرنا ہے۔
یہ صرف ایک طالب علم کی بات نہیں — یہ پورے نظام تعلیم، سماج اور میڈیا کے زوال کی کہانی ہے۔
اردو سے دوری اب فیشن نہیں، بیماری بن چکی ہے۔
جب ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں، ٹاک شوز یا اشتہارات میں ہر دوسرا جملہ “تم”، “تمھارا”، “کیا کر رہی ہو؟” جیسے بے ادب الفاظ پر مشتمل ہو، تو نئی نسل “آپ، جناب، مہربانی، عنایت، مکرمی” جیسے شائستہ الفاظ کیسے سیکھے؟ ادب کہاں سے آئے؟
جب اساتذہ خود کلاس میں “او بھائی، چپ کر” جیسے جملے بولیں تو طالب علم بھی “پالا” صرف موسموں میں ڈھونڈے گا۔
سوشل میڈیا کا عالم یہ ہے کہ “دل خون کے آنسو روتا ہے”۔ فصاحت، بلاغت، محاورات، استعارے، علامات — سب کا جنازہ پوسٹ میں لپیٹ کر ایموجی کے ساتھ دفن کر دیا جاتا ہے۔
“لکھا ہے” کی جگہ “likha h”
“محبت” کی جگہ “luv u”
“مجھے معلوم ہے” کی جگہ “mujhy pta h”
یہ الفاظ نہیں، زبان کی موت کا اعلان ہیں۔
ہم اس زبوں حالی کے ذمہ دار خود ہیں۔ ہم نے اردو کو صرف یومِ زبان کی تقریروں میں قید کر دیا۔
کتنے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں کو اقبال، حالی، جوش یا پروین کے اشعار یاد کرواتے ہیں؟
کتنے اساتذہ ہیں جو “دعا کے وقت ہاتھ اُٹھے نہیں، دل جھکا ہو” جیسے جملوں کی معنویت سکھاتے ہیں؟
کتنے چینلز ہیں جو “ادب پارے” دکھاتے ہوں، یا اردو کی خوبصورتی کو روشناس کراتے ہوں؟
اردو اب صرف محفلِ مشاعرہ کی زبان رہ گئی ہے — وہ بھی مشاعرے جو خود فیس بُک کی ریٹنگ اور لائکس پر زندہ ہیں