عزت ۔عطا یا امتحان
تحریر: رخسانہ سحر
عورت کو عزت رب نے تحفے میں دی ہے،
جبکہ مرد کو یہ عزت کمانی پڑتی ہے۔
یہ کوئی شاعر کا خیال یا فلسفی کا فقرہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی ترتیب ہے—جو اس کائنات کی روح میں پیوست ہے۔ عورت کو “عزت” عطا کی گئی، جیسے ایک مقدس امانت ہو۔ ربِ کریم نے عورت کو رحمت کہا، ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیٹی کو خوشخبری قرار دیا، اور بیوی کو لباس کی مانند بیان کیا۔ یعنی عورت کی عزت اس کی پیدائش کے ساتھ ہی مقدر کر دی گئی وہ عزت جسے اُسے کمانا نہیں پڑتا، بلکہ صرف قائم رکھنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف مرد کو عزت کمانی ہوتی ہے۔ کردار، گفتار، عمل، وفا، محنت، ظرف اور تحمل—یہ سب اُس کی عزت کے درجے متعین کرتے ہیں۔ ایک مرد اگر باوفا ہے، وعدے کا سچا ہے، رزقِ حلال کماتا ہے، عورت کی حفاظت کرتا ہے، دل کو توڑنے کے بجائے سنبھالتا ہے—تو وہ عزت دار کہلاتا ہے۔ گویا اُس کی عزت اُس کی زندگی بھر کی کمائی ہوتی ہے۔
مگر افسوس!
ہم نے رب کی اس ترتیب کو اُلٹ کر رکھ دیا ہے۔
اب عورت کو ثبوت دینے پڑتے ہیں کہ وہ “عزت دار” ہے، جبکہ مرد کے کردار پر انگلی اٹھانا گویا حرام ٹھہرا ہے۔ ہم نے عورت سے اُس کا تحفہ چھین لیا، اور مرد کو بغیر کمائے ہی تخت پر بٹھا دیا۔
ایک لڑکی کو صرف اس لیے عزت سے محروم سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ بولتی ہے، خود مختار ہے، کام کرتی ہے، سوال کرتی ہے، یا صرف خاموش رہتی ہے۔ معاشرہ اُس کی زبان، لباس، دوست، نوکری، آواز، حتیٰ کہ سانس تک کا جائزہ لینے لگتا ہے—کیونکہ عزت کا پیمانہ صرف عورت کے وجود سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔
جبکہ مرد؟
وہ چاہے کتنے ہی دل توڑ دے، جھوٹ بولے، ذمہ داری چھوڑ دے، بیوی پر ہاتھ اٹھائے، وعدہ خلافی کرے، پھر بھی “عزت دار مرد” کہلانے سے محروم نہیں ہوتا—کیونکہ ہم نے مرد کے لیے عزت کا معیار “مرد ہونا” بنا دیا ہے، کردار نہیں۔
عورت کی عزت رب کی عطا ہے—اسے شرم اور عیب کی علامت نہ بنائیں۔
مرد کی عزت کردار کی کمائی ہے—اسے جنس کی بنیاد پر معاف نہ کریں۔
کاش ہم سمجھ سکیں کہ عزت کوئی “تہمت” نہیں، نہ کوئی “تمغہ”،
یہ ایک رویہ ہے… ایک حق ہے… ایک شناخت ہے…
جو عورت کو عطا اور مرد کو عطا کے بعد امتحان میں دی گئی ہے۔عزت… ایک چھوٹا سا لفظ، مگر زندگی کی سب سے بڑی تمنا۔
کبھی یہ عطا ہوتی ہے، کبھی آزمائش۔
کبھی یہ پردہ ہے، کبھی کرب۔
کبھی یہ تاج بنتی ہے، اور کبھی صلیب۔
سوال یہ ہے کہ عزت آخر ہے کیا؟
اور یہ کن کے لیے عطا ہے، اور کن کے لیے امتحان؟
دینِ اسلام میں عزت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا:
“وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِیۡ آدَمَ…”
ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی۔
یعنی عزت انسان کی پیدائشی شناخت ہے، نہ کہ کوئی کمال یا کمائی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے عزت کو عطیہ کے بجائے ایوارڈ بنا دیا ہے۔ ایک ایسی شے جسے کسی مخصوص “رویے”، “لباس”، یا “خاموشی” کے بدلے دیا جاتا ہے۔ اور اکثر صرف عورت کے لیے۔
ہم نے عورت کی عزت کو اس کے جسم، حجاب، شوہر، بچوں اور خاموشی سے جوڑ دیا ہے۔
جبکہ مرد کی عزت اُس کے عمل، وعدے، اور انصاف سے نہیں بلکہ صرف اُس کے “مرد” ہونے سے جوڑ دی گئی ہے۔
ہماری نظر میں عورت کی عزت تحفہ نہیں، بلکہ امتحان بن گئی ہے۔
ایک لڑکی اگر آواز بلند کرے تو بے ادب،
اگر خاموش رہے تو بزدل،
اگر سجے سنورے تو بے حیا،
اور اگر سادہ ہو تو کمتر۔
عزت اُس کا حق ہے، مگر اُسے ہر لمحہ اُس حق کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ہر نظریہ، ہر فقرہ، ہر آنکھ اُس کی عزت کا فیصلہ سناتی ہے—اکثر بنا کسی دلیل کے۔
جبکہ مرد…؟
وہ کبھی گھر چھوڑ کر چلا جائے،
کبھی وعدہ توڑ دے،
کبھی کسی کی زندگی برباد کر دے
تب بھی اس کی “عزت” پر کوئی سوال نہیں اٹھتا،
کیونکہ ہم نے مرد کو عزت کا وارث نہیں،
اس کا “مالک” بنا دیا ہے۔
عزت نہ صرف عطا ہے بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔
یہ فقط عورت کے سر پر رکھا تاج نہیں،
بلکہ مرد کے کندھوں پر رکھا بوجھ بھی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم عزت کو صنف سے نہیں، کردار سے جوڑیں۔
عورت کی عزت اُس کی خاموشی یا پردے میں نہیں، اُس کی انسانیت میں ہے۔
اور مرد کی عزت اُس کی جنس میں نہیں، اُس کے کردار، وفا اور نرمی میں ہے۔
عزت اگر عطا ہے… تو اُس کا امتحان صرف عورت سے نہیں،
ہم سب سے لیا جائے گا۔
اور شاید… سب سے زیادہ اُن سے،
جو دوسروں کی عزت کے محافظ بن کر،
اپنے ظرف کا جنازہ نکالتے ہیں
208