217

زندگی پکارتی رہی، ہم دیکھتے رہے تحریر: رُخسانہ سحر

ایک باپ، اپنی بیٹی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا۔ بارش برس رہی تھی، پانی سڑکوں کو نگل رہا تھا، اور شہر کی رگوں میں جمع ہونے والا برساتی زہر، آخرکار نالوں سے ابل پڑا۔ وہ باپ جس نے شاید بیٹی کے لیے ہر مشکل سہ لی ہو، زندگی بھر اس کی انگلی تھامے رکھا ہو، آج خود بےبس تھا — اپنی بیٹی سمیت گاڑی میں پھنسا، برساتی نالے کی لپیٹ میں، چیخ رہا تھا، پکار رہا تھا، مدد مانگ رہا تھا…
مگر آس پاس صرف لوگ تھے انسان نہیں۔
ایک لمحے کو رکیے۔ ذرا سوچئے… جب کوئی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ جان بچانے کے لیے چیخ رہا ہو، اور ہم اُس کے اردگرد کھڑے بس منظر کشی کر رہے ہوں، تب اصل میں کون مر رہا ہوتا ہے؟ وہ باپ؟ وہ بیٹی؟ یا ہماری انسانیت؟
وہ لمحے جب باپ اور بیٹی کی چیخیں پانی میں مدغم ہو رہی تھیں، کیمرے چل رہے تھے۔ موبائل فونز سے ویڈیوز بن رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ “لائیو اپڈیٹس” دے رہے تھے، لیکن کوئی ایسا ہاتھ نہیں بڑھا جو زندگی کو بچا سکتا۔
یہ ایک حادثہ نہیں یہ ایک وحشت ناک علامت ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں آنکھیں نم نہیں ہوتیں، ہاتھ نہیں بڑھتے، صرف انگلیاں چلتی ہیں — موبائل کی اسکرین پر۔ ہمارے پاس “شیئر” کرنے کا وقت ہے، “بچانے” کا نہیں۔
پھر اگلے روز…
میڈیا پر بریکنگ نیوز چلتی ہے:
“افسوسناک واقعہ، باپ بیٹی نالے میں بہہ گئے”
پھر لمحوں میں خبر بھی پچھلی خبریں بن جاتی ہے، اور ہم اگلی ٹرینڈ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن سوال وہیں کا وہیں کھڑا رہتا ہے:
اگر آپ کا باپ اور آپ کی بیٹی مدد کے لیے پکاریں، اور کوئی نہ آئے تو؟
ہماری سڑکیں صرف پانی میں نہیں، ضمیر کی غلاظت میں بھی ڈوب چکی ہیں۔
اور ریاست؟ وہ ہر برساتی موسم کی طرح ایک “انکوائری کمیٹی” کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔
کوئی پوچھنے والا نہیں کہ نالوں کی صفائی کیوں نہ ہوئی؟
ریسکیو ٹیم تاخیر سے کیوں پہنچی؟
لوگ بےحس کیوں تھے؟
شاید اس لیے کہ ہم سب مردہ ضمیروں کے زندہ مجسمے بن چکے ہیں۔
آج باپ بیٹی گئے ہیں،
کل شاید باری ہماری ہو۔
یہ کالم چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ
زندگی پکارتی رہی، ہم دیکھتے رہے… اور اب آئینہ بھی ہم سے نظریں چرا رہا ہے۔
پانی تو بہہ گیا تھا کچھ لمحوں کے بعد
مگر ضمیر کی لاش وہیں پڑی رہی…
چیخوں سے زخمی، خاموشی میں ڈھکی
نہ کوئی کاندھا ملا، نہ کفن، نہ دفن…
ہم سب گزر گئے اس کے پہلو سے
جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
اور شاید واقعی…
ہم کچھ تھے ہی نہیں!
اللّٰہ تعالیٰ اس باپ اور بیٹی کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ہمیں وہ دل عطا فرمائے جو صرف دھڑکیں نہ گنیں، بلکہ دوسروں کے درد پر دھڑکنا بھی جانیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں