جب تک وجود کے اندر دھڑکتے دل احساس کی لَے پر رقص کرتے رہیں گے ، عشق کی نئی نئی تعریفیں اور توجیہات سامنے آتی رہیں گی . ان میں تنوع اور عجب رنگا رنگی اس وجہ سے موجود رہے گی کہ عشق کی کیفیت میں مست اور محوِ رقص دل خود کوئی بیان دینے یا تجزیہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے . دیکھنے والے جس حد تک ظاہری حالت سے دلی کیفیت کو بھانپ سکیں ، اُن کے لئے وہی حقیقت., جس طرح میرا دل رومی کی پیروی میں عشق کی کائنات پر حکمرانی کا قائل جبکہ رخشندہ نوید اسے آٹھواں عجوبہ سمجھتی ہیں،
گزشتہ دنوں یاسمین حمید اور اعتزاز احسن کی مجلسِ صدارت میں منعقد ہونے والی رخشندہ نوید کی چھ شعری مجموعوں پر مشتمل کُلیات ، دیپک ، کی تقریب رونمائی شہر کی کامیاب ترین تقریب قرار پائی ، علم وادب کے تمام بڑے اور معتبر چہرے کمال بشاشت اور اپنائیت کا احساس لئے سٹیج اور ہال میں موجود تھے ، گفتگو کرنے والوں نے پوری سچائی کے ساتھ رخشندہ کی شاعری کے محاسن اور شخصیت کے اوصاف بیان کئے،
میں رخشندہ نویدکو کئی برسوں سے پڑھتی، سنتی اور دیکھتی آئی ہوں. مجھے ہمیشہ اُس کی شخصیت میں پوشیدہ سحر نے چونکایا . وہ کم بولتی ہے جیسے ہر وقت درونِ باطن کے سوال و جواب میں مصروف ہو ,خود سے مخاطب ہو یا فطرت سے مکالمہ کر کے اسرارو رموز کی گتھیاں سلجھانے اور دل کی باندھی گرہیں کھولنے میں غرق ہو، شاعری میں یہ اسرار دیکھے تو کُھلا کہ ٹیڑھی سوچوں ، نیلگوں تخیل اور مچلتے احساس کو روایتی بحروں اور ردیف قافیوں میں مقید کرنا ممکن نہ تھا ، اس لئے زمانے اور روایت سے مختلف رستہ اختیار کرنا ضروری تھا. اُسکی شعری کائنات پر اُسکے وجود سے پھوٹنے والے اُس کے اپنے رنگوں کی اجارہ داری ہے.جو اسے جداگانہ اسلوب کی مسند پر سرفراز کر چکے ہیں ، نئے ذائقوں کی خوشبو سے معمور شاعری نے اُسے ہم عصروں کے ہجوم میں منفرد شناخت عطا کی ہے ،اُس کی شخصیت میں ایک عجب الہڑ پن،خودی سے بھرا ہوا وقار اورایسی نسوانی لطافت ہے جو بنا کوشش کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے.
رخشندہ اُن لوگوں میں سے ہے جنہیں قدرت نے اپنی ذات اور کائنات میں مگن رہنے کا ہنر عطا کیا ہے. وہ کبھی وقت کے سمندر کی گہرائی میں جا کر زندگی کو محسوس کرتی ہے اور کبھی خاموشی کے غار میں بند ہو کر خود کو دریافت کرنے کا جتن کرتی ہے.
اُس کی آنکھوں کے سامنے وقت نے کئی بہاریہ جزیروں کو خزاں کے حوالے کیا، کئی خوابوں کو روند کر چہروں کو ویران کیا . لیکن اُس کی روح نے کبھی مایوسی اور تھکن کو وجود کے قریب نہ انے دیا ، وہ ہر بار اپنے احساس کو وقت کے مایوس سائے سے نکال کر نئی توانائی کے ساتھ لفظوں میں ڈھالتی رہی،
رخشندہ نوید نسائی احساسات و جذبات کی ایک شائستہ ، باوقار اور مہذب ترجمان شاعرہ ہے.اُس کی شاعری میں عورت کا وجود محض مظلوم یا احتجاجی پیکر کے طور پر سامنے نہیں آتا، بلکہ ایک مکمل، حساس، توانا اور زندگی سے بھرپور ہستی کی صورت میں ابھرتا ہے.
رخشندہ اس حقیقت کو خوب سمجھتی ہے کہ یہ کائنات عورت اور مرد کے درمیان قائم محبت کے مقدس رشتے کے باعث حسین ہے، اپنے اُجلے احساسات رقم کرتے وہ اُن اجارہ دار ذہنوں کی پرواہ نہیں کرتی جو محبت کے خود رو جذبے پر گناہ، ندامت اور تعصب کے زہر کا چھڑکاؤ کر کے خوبصورت تصور کو مشکوک اور زندگی کو بوجھل بنانے پر معمور ہیں.
اپنے محسوسات اور جذبات کے بے ساختہ اظہار میں اُس کا لہجہ چیخ میں ڈھلتا ہے نہ تلخی و برہمی کا شکار ہوتا ہے. وہ شدتِ جذبات کے اظہار میں بھی لفظوں کو شائستگی کا پیرہن پہنائے رکھنے کا ہنر جانتی ہے۔ یہی شائستگی اور تہذیب اُسے دیگر نسائی آوازوں سے ممتاز بناتی ہے.
اُس کی شاعری میں نسوانی انا بھی ہے، وقار بھی اور نسائی تجربے کی تہہ داری بھی، وہ احتجاج کی جگہ فہم اور بلند آہنگی کی بجائے نرمی اور گہرائی سے قاری کے دل تک پہنچتی ہے۔
دیپک کے مطالعے سے کُھلا کہ اُس نے کومل لفظوں کو کاغذ پر بکھیرنے سے قبل دل و دماغ کی بھٹی میں دیرتک
محبت سے تراشا اور خیال کی روشنی میں نکھارا ہے. اُس نے دل سے تخلیق کئے لفظ بھی سنوارے اور کوکھ سے جنمی شہزادیوں کو بھی مل ممتا کی چھاوں کے ساتھ
شعور، محبت، اعتماد اور خودی کے حصار میں رکھ کر پروان چڑھایا اور زندگی کرنے کا ہنر سکھایا، اُسے چمکنا ہی تھا کو اُس کا نام ہی رخشندہ ہے . نوید استعارہ ہے خوش خبری کا، امید کا ، ہر حال میں ساتھ نبھانےاور ایک روشن راستے پر مسلسل چلتے جانے کا.،اُس کی اُجلی تقدیر اُس کے نام میں مظہر ہے .وہ رہِ حیات پر نوید کے ساتھ کو تفاخر ،شادمانی اور تحفظ کے احساس کی چھتری بنا کر مسکراتی ہوئی بےخوف اور سرخرو مسلسل آگے بڑھتی جا رہی ہے.
اُس کے لفظ، اُس کا کردار اور اُس کی ممتا، سب ایک ساتھ مل کر زندگی کا ایسا نغمہ گاتے ہیں جس میں جمال بھی ہے، جلال بھی اور شعور کی گہری خوشبو بھی۔
میں نے موجوں کو دیکھ کر جانا
ہاتھ میں ہات رہنے والا نہیں
عشق بھی آٹھواں عجوبہ ہے
اب عدد سات رہنے والا نہیں
218