پاکستان معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی سیکیورٹی اسٹیٹ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور یہ صورت حال آج تک ہنوز چل رہی ہے۔ سرحدوں پر دوست ممالک کی موجودگی کے باوجود بھارت اور کشمیر کے محاذوں نے پاکستان کو ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنے اور اعصاب مضبوط رکھنے پر مجبور کئے رکھا، اس پر افغانستان کی جانب سے آنے والی ہوائیں بھی وطن عزیز کے لئے بہت زیادہ خوشگوار اور صحت بخش نہیں رہیں جس وجہ سے پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے عسکری اداروں کا کرداد ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ آج بھی بلوچستان میں بھارتی در اندازی اپنے عروج کی جانب گامزن ہے لیکن یہی عسکری اور قومی سلامتی کے ضامن ادارے ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو ان کی ایک نہیں چلنے دے رہے اور تمام سازشیں ناکام بناتے جا رہے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا صرف لخت جگر ہی نہیں بلکہ پورا جگر ہے لہٰذا اس کے دفاع میں کوئی غفلت یا صرف نظری ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ مگر بھارت جس نے میدان میں جنگ لڑنا کبھی سیکھا ہی نہیں بلکہ پیٹھ پیچھے وار کرنے کا واحد داؤ آزما آزما کر قریب آٹھ دہائیوں سے دشمنی کے تیل میں جل رہا ہے جسے کئی بار دوستی کا یقین دلایا گیا، کبھی دوستی بس چلا کر کبھی امن کی آشا دکھا کر مگر اس کو جب بھی موقع ملا اس نے پیٹھ پیچھے وار کرنے کا موقع نہیں گنوایا لیکن مردان خود آگاہ و خدا مستوں نے بھی کبھی اس کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ قومی سلامتی کے ادارے داخلی اور خارجی محاذوں پر بر سر پیکار ہیں اور حالیہ پاک بھارت جنگ میں وہ ” رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن” کی عملی تفسیر نظر آئے۔ پاک فضائیہ کے شاہبازوں نے جہاں آسمانی محاذ کو فضائی ٹی ٹونٹی میں بدل کر رکھ دیا وہیں بری فوج کے جوانوں اور ہمارے انٹیلیجنس کے اہلکاروں کی آہنی دیوار نے دشمن کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔ پہلی بار اس ماورائے تفکرات قوم کو جب بنیان مرصوص کا لفظ سننے کو ملا تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ لفظ نہ صرف زبان زد عام ہو گیا بلکہ پوری قوم کے لئے ایک نسخہ اکسیر اور فتح مبین کے لیے اسم اعظم بن گیا۔ پاک بھارت معرکے کو” شو فائٹ”یا” وینچر ڈبلیو ڈبلیو ایف” کا نام دینے والے اور اس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ پاک بھارت جنگ کو بھی مطالعہ پاکستان کا ریوائذڈ ایڈیشن چیپٹر ٹو (نیا ایڈیشن) کہنے والے شاید ابھی مزید کئی حقیقتوں سے نا آشنا ہیں۔ ایسے میں سیاسی عوام کا کیا کردار ہونا چاہئے تھا وہ بھی بخوبی نظر آیا۔ ان سیاسی جماعتوں نے عوام کو بہر طور اکٹھے کئے رکھا۔ قوم اور پاک فوج کے درمیان تمام رنجشیں دور کرنے اور حائل خلیجیں پاٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، سماجی تنظیموں سول اداروں سمیت ہر کسی نے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اور ریلیوں، پریس کانفرنسوں اور پذیرائی کی دیگر تقریبات کے ذریعے عوام اور پاک فوج کو جوڑے رکھا۔ “پاک فوج اور عوام, ایک حقیقت کے دو نام” اور”عوام اور مسلح افواج مضبوط قوم، پر امن سماج” پر مبنی سوچ نے ابھرتے ہوئے بیانئے کی شکل اختیار کر لی اور یہ نیریٹو اب “نیریٹو آف دی نیشن” بن چکا ہے۔
تاہم ایسے میں نوزائیدہ سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) سب پر سبقت لیتی نظر آئی۔ بلا شبہ جنگ کے بعد شہداء کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی عملی صورت یہی ہو سکتی تھی کے عوامی سطح پر ان کی جتنی پذیرائی ممکن ہو سکے کی جائے اور نئے سرے سے قومی سلامتی کے اداروں کے بغض سے پاک معاشرے کو تشکیل دیا جا سکے۔ 23 مئی 2025 کو لیہ میں آئی پی پی کے زیر اہتمام ہونے والا معرکہ حق ورکرز کنونشن اس وقت پاک بھارت جنگ کی فتح کی تقریب میں تبدیل ہو گیا جب وفاقی وزیر مواصلات اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے بڑے نپے تلے مگر جارحانہ انداز میں لیہ کی عوام کو براہ راست اور ملک بھر میں بذریعہ میڈیا و سوشل میڈیا ان شہداء اور غازیوں کے نام اپنا پیغام محبت اور سلام عقیدت پہنچایا۔ ان کے خطاب میں شخصیت کی اہلیت اور ادارے کی قابلیت پر بھروسے کا رنگ غالب نظر آیا۔ پاکستان میں اس وقت ایک طرف قومی سلامتی کے اداروں سے وفا، اظہار وفا اور عہد وفا کی ہو اچل رہی ہے تو دوسری طرف اس باد صبا بلکہ نسیم سحر پر تنقید بھی کچھ حلقوں کی جانب سے ہوتی نظر آتی ہے جو قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔ ایسے میں اپنے اداروں کو تسلیم کرنا اور ان پر بھروسہ کرنا ہی قومی حمیت اور وطن سے محبت کی واحد دلیل ہے۔ آئی پی پی کا چند روز قبل لیہ میں ہونے والا معرکہ حق کنونشن اسی بات کا ہی غماز نظر آیا۔ اس کنونشن نے عوامی سطح پر یہ پیغام دیا کہ پاک فوج سے محبت کا رواج کبھی بھی اولڈ فیشن نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے بلکہ سمجھنے کے لئے یہ اشارہ کافی ہے کہ اکثر ٹرکوں پر لکھا ہوا یہ جملہ “پاک فوج کو سلام”ہر دور کا مقبول عوامی نعر ہ رہا ہے۔اس کامیاب معرکہ حق ورکرز کنونشن کے انعقاد کے بعد آئی پی پی نے خوشاب، فیصل آباد، کامونکی سمیت متعدد اضلاع میں معرکہ حق کنونشن کے اعلانات کئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ اس سیاسی جماعت نے پاک فوج سے محبت کی چنگاری جو عوام کے دل میں سلگ چکی ہے اس کو بجھنے نہ دینے کی ٹھان رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے جنگی حالات میں پاکستان تحریک انصاف بھی پاک فوج کے جذبے کو سلام کرتی اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتی نظر آئی۔ بانی پی ٹی آئی سمیت اس جماعت کے رہنماوں نے پاک فوج کو اپنی فوج کہا اور اسے بہادری پر بھرپور داد شجاعت دی،مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر ایسے کون سے غیر مرئی کردار ہیں جو ہنوز عوام کو گمراہ کرنے کی موہوم کوشش میں لگے ہوئے ہیں، یقینا یہ دھرتی کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور دشمنوں کے آلہ کار ہی ہوں گے جو ففتھ جنریشن وار کی ایکسٹینشن کے طور پر جلتے نظر آ رہے ہیں اور یقینا بجتے نظر آئیں گے کیونکہ بطور پاکستانی میرا ایمان ہے کہ وطن عزیز سلامتی کے ساتھ ساتھ استحکام اور دائمی قیام کا دوسرا نام ہے
146