153

استاد کی عزت کہاں کھو گئی؟ تحریر: رخسانہ سحر

کبھی ہمارے معاشرے میں استاد کا مقام باپ سے بلند سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کا ایک اشارہ، ایک خاموش نگاہ بھی شاگرد کے دل پر نقش ہو جاتی تھی۔ لیکن آج؟ آج ایک حافظۂ قرآن، باحجاب استانی کو اسکول کے اندر، ان کے شاگردوں کے سامنے، سرعام زد و کوب کیا جاتا ہے اور قوم خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

البدر ہائیر سیکنڈری اسکول کراچی میں پیش آنے والا واقعہ کوئی عام حادثہ نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی، تربیت کے فقدان، اور اداروں کے اندر مداخلت کی بھیانک تصویر ہے۔ جس معاشرے میں استاد کو محض اس لیے مارا جائے کہ اس نے ایک طالبہ کو وقت کی پابندی کا سبق دینے کی کوشش کی، وہاں نہ تعلیم باقی رہتی ہے نہ تربیت۔
طالبہ عیشال شاہد کی جانب سے اپنی والدہ اور ماموں (جو کہ ایک پولیس افسر ہیں) کے ساتھ مل کر ایک خاتون استاد پر حملہ، صرف ایک فرد کی توہین نہیں، یہ پورے تعلیمی نظام کی بے توقیری ہے۔ یہ واقعہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اب محفوظ نہیں۔ وہاں علم تو شاید دیا جا رہا ہو، مگر عزت نہیں بچائی جا رہی۔

ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم بچوں کو تعلیم صرف نصاب کی حد تک دے رہے ہیں یا انہیں اخلاقیات، آداب، اور انسانیت بھی سکھا رہے ہیں؟ کیا والدین نے بچوں کو یہ سکھایا ہے کہ استاد کی ڈانٹ اصلاح ہوتی ہے، نہ کہ دشمنی؟ کیا پولیس افسر بن جانا ہمیں قانون سے بالاتر کر دیتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر استاد ہی بے عزت ہوں گے تو علم کی روشنی کہاں سے آئے گی؟

یہ واقعہ صرف ایک فائل میں بند کر دینے والا نہیں، یہ ایک ناقوسِ خطر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اساتذہ کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرے۔ ایسے حملے نہ صرف جرم ہیں بلکہ معاشرتی انحطاط کی علامت بھی۔

استاد کی عزت کو بحال کیے بغیر ہم کسی تعلیمی ترقی، کسی معاشرتی انقلاب، کسی اخلاقی بلندی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہمارے اپنے بچوں کو سکھانے والا کوئی نہ ہو گا۔
کہتے ہیں “جس قوم کے بچے استاد کو سلام کرنا بھول جائیں، وہ علم نہیں، صرف معلومات حاصل کرتے ہیں”۔ آج ہمارے تعلیمی ادارے اسی المیے کا شکار ہیں۔ کراچی کے البدر ہائیر سیکنڈری اسکول میں ایک باحجاب، حافظۂ قرآن خاتون استانی پر کیا گیا بہیمانہ تشدد محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ استاد کے مقدس منصب پر حملہ ہے، تعلیم کے وقار پر حملہ ہے۔

واقعہ کی سنگینی اپنی جگہ، مگر اس سے جڑے وہ سوالات کہیں زیادہ اہم ہیں جنہیں ہم نے برسوں سے نظرانداز کیا ہے۔ کیا استاد اب اپنے شاگرد کو تربیت کے تحت تنبیہ بھی نہیں کر سکتا؟ اگر ایک استاد وقت کی پابندی سکھانے کے لیے شاگرد کو مختصر کھڑا کر دے، تو کیا یہ ایسا “جرم” بن گیا ہے کہ اس کے جواب میں استاد کو مارا پیٹا جائے، اس کا نقاب کھینچا جائے، اور خون بہایا جائے؟

یہی تو وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر غور کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے بچوں کو استاد کے بارے میں کیا سکھایا ہے؟ کیا ہم نے انہیں بتایا ہے کہ استاد کی بات کو برداشت کرنا، اسے عزت دینا، اور اس کی ڈانٹ کو اصلاح سمجھنا تعلیم کا ہی حصہ ہے؟ یا ہم نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ “اگر استاد کچھ کہے تو فوراً آ کر بدلہ لو”؟

والدین کا یہ رویہ کہ “میرا بچہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا” ایک نفسیاتی مرض بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کی شکایت پر والدین پہلے بچے کی اصلاح کرتے تھے، اور استاد سے ہاتھ جوڑ کر معذرت کرتے تھے کہ “آپ کا حق ہے، آپ نے سکھانے کے لیے کچھ کہا”۔ مگر آج؟ آج شکایت سننے سے پہلے ہی والدین، اکثر بااختیار رشتے داروں کو ساتھ لے کر اسکول پہنچ جاتے ہیں اور اپنے “شریف بچے” کی انا کی خاطر استاد کی عزت روند دیتے ہیں۔

یہ رویہ صرف ادارے کو کمزور نہیں کرتا، یہ آنے والی نسل کو برباد کرتا ہے۔ جب استاد اپنے شاگرد کو کچھ کہنے سے ڈرے گا، تو وہ تربیت نہیں دے سکے گا، صرف رٹا لگوائے گا۔ اور جب تعلیم تربیت سے خالی ہو جائے، تو پھر ایسے ہی معاشرے جنم لیتے ہیں جہاں بظاہر ڈگری یافتہ لوگ اخلاقی بانجھ پن کے شکار ہوتے ہیں۔

اساتذہ محض مضمون نہیں پڑھاتے، وہ زندگی کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ استاد وہ آئینہ ہے جس میں شاگرد اپنا بہتر مستقبل دیکھ سکتا ہے۔ اگر اس آئینے کو توڑ دیا جائے تو صرف دھندلا عکس بچتا ہے۔

حکومت، عدلیہ، اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کریں۔ اساتذہ کو وہ عزت اور اعتماد واپس دیا جائے جس کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا۔

اور والدین سے میری گزارش ہے:
آپ کا بچہ آپ کی جان ہو سکتا ہے، مگر وہ استاد کا شاگرد ہے۔ اس رشتے کی حرمت کا لحاظ رکھیں، کیونکہ اگر استاد خاموش ہو گیا تو آنے والی نسل گونگی ہو جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں