139

بارش سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی از رخسانہ سحر

بارش کا موسم دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے، مگر ہر دل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ یہ تحریر اُن چہروں کے نام، جن کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھت کی فکر، بھوک کی پرچھائیں، یا تنہائی کی نمی چھپی ہوتی ہے۔ یاد رکھیے، ساون صرف وہ نہیں جو آسمان سے برسے، بعض اوقات یہ دل سے بھی برستا ہے۔
بارش سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی
بارش… ایک ساون کی رم جھم، جو کسی کے لیے خوشی کا موسم ہے تو کسی کے لیے فکر کی گھڑی۔ حیرت ہے نا؟ ایک ہی آسمان سے برسنے والے قطروں کی تاثیر ہر دل پر الگ کیوں ہوتی ہے؟
جب بادل برستے ہیں، کچھ گھروں میں قہقہے گونجنے لگتے ہیں۔ باورچی خانوں میں پکوڑوں کی خوشبو گھلتی ہے، اور چھتوں پر چائے کے کپ تھامے مسکراہٹیں ادھر اُدھر بکھرتی ہیں۔ لیکن وہیں کہیں پاس ہی کوئی ماں چھت سے ٹپکتے پانی کو روکنے کے لیے برتن رکھ رہی ہوتی ہے، اور دل میں یہ سوال لیے بیٹھی ہوتی ہے کہ اگر چھت مکمل بھیگ گئی تو بچوں کو کہاں سلاؤں گی؟
کسی کے لیے بارش ایک فلمی منظر ہے — ہاتھ میں چائے، سامنے منظرنامہ، اور دل میں سکون۔ مگر کسی مزدور کے لیے یہی بارش دیہاڑی کے خاتمے کا اعلان ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر آج کام نہ ملا، تو شام کو چولہا کیسے جلے گا؟ بچوں کو کیا دوں گا؟
کہیں کوئی جوڑا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، بارش کی بوندوں میں بھیگتا ہنس رہا ہوتا ہے، اور کہیں کوئی شخص کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کسی بچھڑے ہوئے رشتے کی یاد میں دل ہی دل میں ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی بارش — اور اس میں کوئی ساون دیکھ رہا ہے، اور کوئی اپنے اندر خزاں۔
بارش دراصل قدرت کی ایک حسین ادا ہے، ایک دعا ہے جو آسمان سے برستی ہے۔ مگر انسان کے حالات، جذبات، محرومیاں اور یادیں اس دعا کو کہیں دعا رہنے دیتی ہیں، کہیں بددعا سا درد بخش دیتی ہیں۔
یہی زندگی کی سچائی ہے خوشیاں اور غم، راحتیں اور اذیتیں، سب کچھ ایک ہی منظر میں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ایک ہی لمحہ کسی کے لیے نعمت ہے، اور کسی کے لیے آزمائش۔
ہم اکثر صرف اپنی کھڑکی سے بارش کو دیکھتے ہیں، اپنی کیفیت کو مرکز مانتے ہیں۔ مگر اگر کبھی ہم دوسرے کی چھت سے بھی جھانکیں، تو شاید ہمیں احساس ہو کہ ہر ساون، ہر چائے، ہر پکوڑا خوشی کی علامت نہیں ہوتا۔
کہیں کہیں یہ صرف خاموشی سے بہتے آنسوؤں کی صورت میں اترتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں