بیٹی کے رشتے دیکھنے والے اکثر اونچے گھروں، چمکتے فرشوں اور بڑی گاڑیوں کو معیار سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لیکن کبھی دل کے آئینے میں جھانک کر تو دیکھو… کیا وہ لڑکا انسان بھی ہے؟ کیا اس کے اندر احساس ہے، محبت ہے، برداشت ہے؟ کیا وہ کسی بیٹی کو عزت دے سکے گا؟
کبھی دولت چھن بھی جائے تو کردار باقی رہتا ہے، لیکن جس رشتے میں انسانیت نہ ہو، وہ دولت سمیت بھی بکھر جاتا ہے۔
بیٹی کو سونے کے پنجرے میں قید نہ کرو، اُسے اُس کے حصے کی محبت، عزت اور تحفظ دو۔
جب بھی بیٹی کے رشتے کی بات آتی ہے، ہمارے ہاں ایک ہی سوال سب سے پہلے پوچھا جاتا ہے:
“لڑکے کا کیا کاروبار ہے؟”
“اپنا گھر ہے یا کرائے کا؟”
“گاڑی ہے؟ تنخواہ کتنی ہے؟”
اور اگر ان سب سوالات کے جوابات معاشرتی توقعات کے مطابق ہوں تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے:
“رشتہ بہت اچھا ہے!”
لیکن افسوس کہ کوئی نہیں پوچھتا:
“لڑکے کا رویہ کیسا ہے؟”
“ماں بہنوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟”
“غصہ آتا ہے تو زبان قابو میں رہتی ہے یا نہیں؟”
“عزت دینے کا ہنر آتا ہے یا صرف دولت کی نمائش کا شوق ہے؟”
بیٹی کو رخصت کرتے وقت ماں باپ کو صرف یہ فکر ہوتی ہے کہ وہ کسی اچھے گھر میں جائے، مگر بدقسمتی سے ہمارا سماج “اچھے گھر” کی تعریف صرف دولت، کوٹھی، گاڑی اور بینک بیلنس سے کرتا ہے۔
انسان کی سوچ، اس کے اخلاق، اس کی شخصیت ۔ یہ سب معیار کے پیمانے سے نیچے گرا دیے گئے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس لڑکی کو ہم بڑی محبت سے پالتے ہیں، جس کے آنچل میں ہم دعائیں باندھ کر رخصت کرتے ہیں، کیا وہ صرف ایک اعلیٰ زندگی گزارنے کے لیے بھیجی جا رہی ہے یا ایک عزت دار، محبت کرنے والے “انسان” کے ساتھ جینے کے لیے؟
کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ لڑکا بیوی کو انسان سمجھے گا یا صرف ذمہ داری؟
وہ اس کی ہنسی کی قدر کرے گا یا اسے خاموش رہنے کا سبق دے گا؟
وہ اس کے خوابوں کو ساتھ لے کر چلے گا یا صرف اسے اپنی خدمت کے لیے رکھے گا؟
اکثر بیٹیوں کو ایسے گھروں میں بسا دیا جاتا ہے جہاں فرش سنگِ مرمر کے ہوتے ہیں مگر رویے پتھر دل، جہاں مہنگے صوفے تو ہوتے ہیں لیکن زبان کی نرمیاں نہیں، جہاں روز سونے کے کنگن پہنے جاتے ہیں مگر دل میں زنجیریں باندھ دی جاتی ہیں۔
بیٹی کا رشتہ جوڑنا صرف دو خاندانوں کی رضا مندی نہیں، یہ دو دلوں، دو زندگیوں، اور دو خوابوں کا میل ہے۔
پیسے سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے، لیکن عزت، وفا، اپنائیت اور انسانیت نہیں۔
ایسا لڑکا جس کے اندر انا ہو، احساس نہ ہو، وہ لاکھوں کماتا ہو مگر بیوی کو جوتوں کی نوک پر رکھتا ہو، وہ انسان نہیں، ایک خطرہ ہے ۔ ایک خاموش اذیت ہے جو زندگی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اس لیے، اے بیٹی کے رشتے دیکھنے والو!
خدارا! صرف دولت مت دیکھو،
یہ بھی دیکھو کہ لڑکا انسان بھی ہے یا نہیں…
کیونکہ آخر میں بیٹی نے گھر میں رہنا ہے، “محل” میں نہیں