جب بادل پھٹتے ہیں، خواب بہہ جاتے ہیں
تحریر: رخسانہ سحر
یہ جولائی کی ایک عام سی شام تھی۔
لوگوں نے بچوں کو تیار کیا، گرم جیکٹس ساتھ رکھیں، سیر کی منصوبہ بندی کی، اور سوات کے قدرتی حسن کو دیکھنے چل پڑے۔
انہیں کیا خبر تھی کہ بادل، جو اوپر سے سفید اور نرم نظر آتے ہیں، اندر سے کبھی کبھی قبر بن جاتے ہیں۔
بابوسر ٹاپ پر بادل پھٹ گیا۔
مگر وہ بادل نہیں پھٹا، وہ کئی گھروں کے خواب پھٹ گئے۔
وہ بچوں کی قہقہیں تھیں جو ایک دم میں خاموش ہو گئیں،
ماں کی دعائیں تھیں جو پہاڑوں میں گونج گئیں اور واپس نہ آئیں۔
پچاس سے زائد لوگ — خواتین، بچے، مرد
سیلابی ریلے میں بہہ گئے،
کئی تو ابھی تک لاپتہ ہیں،
کئی کی لاشیں ایسے مقامات سے نکالی جا رہی ہیں جہاں انسان کا قدم برسوں میں بھی نہ پڑے۔
یہ قدرتی آفت تھی؟ یا انسانی غفلت؟
نہ کوئی الرٹ، نہ ایمرجنسی انتظامات، نہ محفوظ ٹھہرنے کی جگہیں۔
صرف سیر کرنے آئے لوگ، اور اوپر سے آسمان کی غضبناک بارش۔
ہماری ریاست ہر بار ایسے سانحے پر “نوٹس” لیتی ہے،
وزیر جائے حادثہ پر کھڑا ہو کر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے،
ایک پریس کانفرنس ہوتی ہے،
پھر سب کچھ خاموش…
اور اگلے حادثے کا انتظار۔
ہم کب سیکھیں گے کہ “حفاظت” صرف تقدیر سے نہیں، “تدبیر” سے بھی آتی ہے؟
کیا سیرگاہوں کو محفوظ بنانے، وارننگ سسٹمز لگانے، اور ٹورزم پالیسی کو انسان دوست بنانے کا وقت نہیں آ گیا؟
کیوں ہر بار مرنے والے صرف عام لوگ ہوتے ہیں؟
کیا وہ انسان نہیں تھے؟
کیا وہ صرف “اعداد و شمار” تھے؟
یہ ملک کب خوابوں کی وادی بنے گا؟
اب تو یہاں بادل بھی خواب نگل جاتے ہیں۔
> جب بادل پھٹتے ہیں
تو صرف پانی نہیں بہتا…
بہت سی ماں کی گودیں،
باپ کی امیدیں
اور بچوں کے کل کے خواب
سیلاب میں دفن ہو جاتے ہیں