134

جدید انسان اور ٹوٹتے رشتے تحریر: رخسانہ سحر

یہ کیسی عجیب دنیا ہے جہاں انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے، مگر تنہائی کا شکار ہے۔ ہر ہاتھ میں موبائل ہے، مگر دل خالی ہیں۔ ہر چہرہ مسکرا رہا ہے، مگر آنکھوں میں نمی ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی رشتے سے منسلک ہے، مگر اصل میں ہر رشتہ ادھورا، کھوکھلا اور سطحی ہے
جدید انسان نے وقت کی بچت کے لیے ہر کام کے لیے سہولتیں ایجاد کر لیں — ای میل، واٹس ایپ، شارٹ کٹس اور ایپس۔ مگر اس نے رشتوں کو بھی سہولت کی طرح برتنا شروع کر دیا۔ اب تعلقات بھی وقت، فائدے اور “موڈ” کے تابع ہو چکے ہیں۔ جیسے الارم لگایا، بجا، پھر بند کر دیا۔ جس سے بات کرنے کا دل کیا، کر لی؛ جس سے بیزار ہوئے، کنارہ کر لیا — بغیر وضاحت، بغیر لحاظ، بغیر احساس۔
کبھی رشتے عمر بھر کے عہد ہوتے تھے۔ اب وہ اختیاری معاہدے بن چکے ہیں۔
کبھی خط کا انتظار رشتے کو خاص بناتا تھا، اب “سیین” ہونے کے باوجود جواب نہ دینا معمول ہے۔
کبھی تکلیف میں ہاتھ تھاما جاتا تھا، اب تکلیف دینے والا ہی اپنوں میں سے نکلتا ہے۔
جدید انسان نے آزادی کے نام پر ذمہ داری سے انکار کر دیا ہے۔ اسے “سپیس” چاہیے، لیکن خلوص نہیں۔ وہ “ریلیشن شپ” چاہتا ہے، لیکن قربانی نہیں۔ وہ “ٹائم پاس” چاہتا ہے، مگر وقت دینا نہیں چاہتا۔
رشتے اب ایگو کے کھیل بن چکے ہیں۔
جس نے پہلے کال کی، وہ کمزور۔
جس نے زیادہ بات کی، وہ مجبور۔
جس نے معافی مانگی، وہ کمتر۔

یہ خود ساختہ انا کا بت ہمارے دلوں میں رکھ کر ہم رشتوں کو خود ہی دفن کر رہے ہیں۔
آج کا انسان رشتہ ٹوٹنے پر افسوس نہیں کرتا، بلکہ اس کے حق میں دلائل گھڑ لیتا ہے۔ اسے اندر ٹوٹنے سے زیادہ “امیج” کی فکر ہے۔
لیکن سوال یہ ہے: کیا یہی ترقی ہے؟
ہم نے سہولت کے نام پر احساس کھو دیا۔
ہم نے آزادی کے نام پر قربت کا گلا گھونٹ دیا۔
ہم نے جدت کے نام پر رشتوں کا خون کر دیا۔
رشتے وہ آئینہ ہوتے ہیں جس میں انسان خود کو پہچانتا ہے، اور جب وہ آئینہ ٹوٹ جائے تو بظاہر کچھ نہیں بگڑتا — مگر اندر کی تصویر دھندلا جاتی ہے۔

آج بھی اگر ہم رشتوں کو سمجھ لیں — وقت دے سکیں، سُن سکیں، سہہ سکیں، نبھا سکیں — تو شاید ہم ان بکھرتے رشتوں کو دوبارہ جوڑ سکیں۔
کیونکہ رشتے الارم نہیں ہوتے کہ جب چاہا آن کیا، جب چاہا آف کر دیا۔
رشتے اور تعلق گھڑی کے الارم نہیں ہوتے کہ جب چاہا سیٹ کیا، اور جب چاہا بند کر دیا۔ یہ محض وقتی تسکین یا سہولت کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ احساس، ذمہ داری اور قربانی کا نام ہیں۔ رشتوں کو نبھانے کے لیے جذباتی قربانی، وقت، اور صبر درکار ہوتا ہے۔ صرف خوشیوں کے لمحے بانٹنے سے رشتہ نہیں بنتا، دکھ اور تکلیف میں ایک دوسرے کا سایہ بننا اصل رفاقت ہے۔
آج کے دور میں، ہم تعلقات کو بھی ڈیجیٹل سہولتوں کی طرح استعمال کرنے لگے ہیں۔ جس رشتے سے فائدہ نہ رہا، اسے “ڈیلیٹ” کر دیا۔ جس شخص سے ذرا سا اختلاف ہوا، اسے بلاک کر دیا۔ ہم نے برداشت اور نبھانے کے فن کو کمزوری سمجھ لیا ہے، اور یہی رویہ ہمارے معاشرے میں تنہائی، نفرت، اور جذباتی خلا پیدا کر رہا ہے۔
یاد رکھیے، رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے، خلوص کے بھی ہوتے ہیں۔ اور خلوص وہ جذبہ ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ رشتوں کو نبھانا آتا ہو تو وہ عمر بھر کا سرمایہ بن جاتے ہیں، ورنہ وقتی تعلق تو موسم کی طرح بدل جایا کرتے ہیں۔
تو آیئے، تعلقات کو الارم کی طرح “سیٹ” اور “آف” کرنے کے بجائے، دل کی گہرائی سے نبھانا سیکھیں۔ کیونکہ رشتے صرف الفاظ نہیں، احساسات کا تقاضا کرتے ہیں۔

یہ تو عہد ہوتے ہیں — وقت، ظرف، اور قربانی کے۔
اور یہ وہی نبھا سکتا ہے جو جدید ہو کر بھی انسان رہنے کا ہنر نہ بھولا ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں