218

قائد اعظم لائبریری، دانش و ادب کا مرکز ڈاکٹر صغرا صدف

قائد اعظم لائبریری، دانش و ادب کا مرکز
ڈاکٹر صغرا صدف
کچھ عمارتوں سے جُڑی یادیں اتنی خوشگوار ھوتی ھیں کہ وہ دل میں بس جاتی ھیں۔ برسوں پہلے جب میں شعبہ فلسفہ میں زیر تعلیم تھی، ایم اے کا مقالہ لکھنے کے دوران اپنے پورے گروپ کے ساتھ لارنس گارڈن میں نئی نئی قائم قائد اعظم لائبریری جانا شروع کیا تو عجیب سرخوشی اور کشادگی کا احساس ھوا.تعلیمی اداروں کی لائبریریوں کے مقابلے میں یہ پرشکوہ عمارت ، اندر رکھا اعلی سازو سامان، باہر کا دلفریب ماحول بہت بھلا لگا، پڑھتے پڑھتے تھک جاتے تو کچھ دیر خوشگوار ماحول میں چہل قدمی کرتے، دہی بھلے کھاتے ،چائے پیتے اور پھر مطالعہ شروع کر دیتے.مجھے یہ ماحول اتنا پسند آیا کہ جیب خرچ قربان کر کے ممبر شپ حاصل کی،پی ایچ ڈی کے دوران اکثر وہاں جانا ھوا،تحقیقی مقالے میں معاون کتب کے علاوہ جب بھی موقع ملا فلسفے،ادب اور معاشرت پر موجود انمول کتابوں سے بھی استفادہ کیا.
اب جب بھی مال روڈ سے گزرتی ھوں دانش کے اس مرکز کیلئے نگاہوں سے پھوٹے ھزاروں سلام اور دل سے نکلی دعائیں فضا میں بکھرتی محسوس ھوتی ھیں تو ایک عجیب خوشگواریت تن من پر طاری ہو جاتی ہے۔
قائد اعظم لائبریری کی عمارت برطانوی طرز تعمیر کا نادر نمونہ ھے ۔1866 میں پُرشکوہ گنبدوں ، بلند ستونوں ، خوبصورت دروازوں ، سیڑھیوں ،لابیوں ، بڑے ھالز اور کشادہ برآمدوں والی یہ عمارت انگریزوں نے اپنی گپ شپ،تفریح اور تقریبات کے لئے جمخانہ کلب کے طور پر تعمیر کی تھی۔
1981 میں پنجاب حکومت کی عمل داری میں آنے کے بعد اس کا بہترین مصرف لائبریری کی صورت میں سوچا گیا اور 1984 میں اسے باقائدہ قائد اعظم لائبریری بنا دیا گیا۔اپنی کئی خوبصورتوں کے باعث بہت جلد یہ لائبریری پاکستان کی چند بڑی لائبریریوں کی فہرست میں شامل ھو گئی۔
یہاں پر محققین، طلبا، اور کتب بینی کے شائقین کیلئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد نادر کتابیں اور رسائل موجود ھیں۔ ای-لائبریری، انٹرنیٹ، اور ڈیجیٹل ریسرچ ڈیٹابیسز کی سہولت بھی دستیاب ہے،
جمخانہ کلب والی عمارت کے علاوہ
جدید سہولیات سے آراستہ نیا بلاک بھی بنایا گیا ہے۔ قدرتی ماحول، بلند درخت، سبزہ ، پھول ، چہل قدمی کے ٹریک اور وسیع لان کے علاوہ لاھور کے وسط میں مال روڈ پر موجود یہ لائبریری لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہتی ھے۔ لیکن اس کو وہ اہمیت نہ حاصل ھو سکی جس کی یہ حقدار تھی ۔میں کیونکہ اسکے گزشتہ بورڈ آف گورنرز میں بھی شامل تھی اس لئے زیادہ تر یہی دیکھا گیا کہ یہاں تعینات ھونے والے سول سرونٹس زیادہ دیر رُکنا پسند نہیں کرتے تھے اس لئے روٹین کاموں کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آسکی۔ کاشف منظور کے بطور ڈی جی تعیناتی کے بعد اس ادارے کو جو معتبر مقام حاصل ھوا ھے، صاحب بصیرت لوگ اب یہاں پوسٹنگ کی تمنا کیا کریں گے۔کاشف منظور مطالعے کا شوق رکھنے والا افسر اور لکھاری ھے۔ بہت عمدہ ادبی گفتگو کرتا اور خوبصورت نثر لکھتا ھے ۔ اس کے مضامین ادبی اور تحقیقی حلقوں میں بہت سراہے جاتے ھیں۔یہی وجہ ھے کہ اُس نے ذاتی کاوش نے اس لائبریری کو مرکز نگاہ بنا دیا ھے.آئے روز خبروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر ملکی مندوبین ، سفارت کاروں ، ادیبوں ،سیاستدانوں ، فنکاروں اور طلبا کے مختلف وفود کو اس خوبصورت عمارت کا دورہ کرتے دیکھ کر دلی خوشی ھوتی ھے ۔۔ ادبی نشستیں، کتاب میلے اور سیمینارز تسلسل کے ساتھ منعقد ہونے کی وجہ سے لائبریری میں آنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ھے۔
ان کاوشوں میں پنجاب اسمبلی اور یونیورسٹیوں سمیت مختلف معتبر اداروں کے ساتھ باہمی معاہدے کئے گئے ھیں ۔دسمبر 2024 میں امریکی حکومت کی مدد سے لنکن کارنر جدید ترین سمارٹ لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا،تیس ہزار نئی کتابیں شامل کی گئیں۔قائداعظم لائبریری کی تاریخ پر مبنی کافی ٹیبل بک،ہر ہفتے ادبی اور علمی پروگراموں کا سلسلہ ،طالبعلموں اور ریسرچ سکالرز کے لیے خصوصی گوشے قائم کرنا واقعی قابل تحسین ھے۔
قائد اعظم لائبریری کی عمارت اب ادیبوں صحافیوں اور دانشوروں کے لئے ادبی بیٹھک اور پاک ٹی ہاؤس کا درجہِ اختیار کر چکی ھے ۔ یہ لائبریری ھماری روحانی طبیب بن سکتی ھے۔اگر آپ کے پاس وقت ھے تو گھر بیٹھ کر کُڑھنے کی بجائے اس لائبریری کا دورہ کیجئے ، اپنی من پسند کتابوں کا مطالعہ شروع کیجئے ، کچھ دیر پھولوں درختوں اور سبزے کے ساتھ مکالمہ کرتے ھوئے چہل قدمی کیجئے ،خود کو عجیب سکون اور سرشاری کے عالم میں محسوس کریں گے ،کتاب سے محبت کر کے زندگی اور دنیا کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں
قائداعظم لائبریری، دانش و ادب کا مرکز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں